پشاورصوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی (PDWP) نے 8543.837 ملین روپے لاگت کے 20 ۔پراجیکٹس کی منظوری دیدی ہے ۔یہ منظوری ایڈیشنل چیف سیکرٹری پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ ڈاکٹر شہزادخان بنگش کی زیر صدارت منعقد ہ اجلاس میں دی گئی جس میں صوبے کے ترقی کے لئے محکمہ قانون وانصاف ،صنعت،پانی، زراعت ،کثیر شعبہ جاتی ترقی، بلدیات ،اعلیٰ تعلیم، عمارتوں اور سڑکوں کے شعبوں سمیت مختلف شعبوں سے متعلق 27 ۔پراجیکٹس پرتفصیلی غوروخوض کے بعد 20 ۔منصوبوں کی منظوری دی گئی جبکہ سات پراجیکٹس کو غیر موزوں ڈیزائن کے باعث مؤخر کردیاگیا۔
قانون وانصاف کے شعبے میں منظور کردہ منصوبوں میں تحصیل جوڈیشنل کمپلیکس ہنگو کی تعمیر ،ڈسٹرکٹ اور ہائی کورٹ بارسوات کے لئے کمروں اوربار رومز ایبٹ آبادکی تعمیر اور جوڈیشنل کمپلیکس کوہاٹ کی دو بارہ تعمیر اورتزئین وآرائش جبکہ صنعت کے شعبے میں منظور کردہ منصوبوں میں موجود سمال انڈسٹریل اسٹیٹ (ڈی آئی خان، بنوں ،کوہاٹ اور مانسہرہ) کی بحالی شامل ہے ۔
اسی طرح پانی کے شعبے میں منظورکردہ منصوبوں میں آبازئی کینال سسٹم کی بہتری اور ضلع ملاکنڈ کے الائیڈ سٹرکچراور زراعت کے شعبے میں منظور کردہ منصوبوں میں خیبرپختونخوا میں موجودہ سول ویٹرنری ڈسپنریز کی تعمیر وبحالی اور گومل زام ڈیم کمانڈ اریو کے ترقیاتی پراجیکٹ سے استفادہ حاصل کرنے والوں کے لئے بغیر سود کے 462.480 ملین روپے کے قرضوں کی فراہمی کے منصوبے شامل ہیں۔
کثیر شعبہ جاتی ترقیاتی شعبے میں منظور کردہ منصوبہ پی اینڈ ڈی ڈیپار ٹمنٹ میں پی پی پی سپورٹ یونٹ کاقیام جبکہ بلدیات کے شعبے میں منظور کردہ منصوبوں میں ہری پور ( پی پی پی) میں بس ٹرمینل کے لئے اراضی کاحصول ،شیخ ملتون ٹاؤن شپ مردان میں انفراسٹرکچر کی بہتری اورمیونسپل مینجمنٹ انفارمیشن یونٹ شامل ہیں۔ اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں منظور کردہ منصوبوں میں مردان میں خواتین کے لئے ہوم اکنامکس کالج کا قیام ،پبلک لائبریریز (فیز ۔تھری) کاقیام ،خیبرپختونخوا میں پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کے لئے کارکردگی کی بنیاد پرگرانٹ اور خیبرپختونخوا میں کالج کونسلز کے ذریعے سرکاری کالجوں میں عمارات کی مرمت شامل ہیں۔
295









