150

نواز شریف کا فیصلہ عوام نے کرنا ہے، مریم نواز

مانسہرہ۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رہنما و سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے کہا ہے کہ منتخب وزیراعظم کو گاڈفادر اور سسلین مافیا کہہ کر کون سے آئین کی تشریح ہورہی ہے؟نواز شریف کے خلاف انتقام کی آگ ٹھنڈی ہونے کا نام نہیں لے رہی،جو عمران خان جیسی زبان استعمال کرے گا اسے اسی زبان میں جواب دیا جائے گا، نواز شریف کا مقدمہ عوام نے اپنے ہاتھوں میں لے لیا،نواز شریف کا فیصلہ عدالتوں نے نہیں عوام نے کرنا ہے۔

عمران خان اب اپنی غلطیوں سے سیکھنے کا نہیں اپنا نامہ اعمال لینے کا وقت ہے، نواز شریف کے معمولی سپاہی نے مضبوط ترین جہانگیر ترین کے بیٹے کو شکست دے دی، عمران کو ہارنے کے بعد چھپنے کی جگہ نہیں مل رہی، تحریک انصاف کی تمام شکستوں کا ذمہ دار عمران خان ہے، نواز شریف کو عوام سے دور رکھنے کی سازش نے عوام کی محبت کو عشق میں بدل دیا ہے، جس دن عوامی عدالت سے نواز شریف کے حق میں فیصلہ آتا ہے اسی دن اعلیٰ عدلیہ کے ججز سے نئی گالی سننے کو ملتی ہے، توہین عدالت تو وہ کر رہا ہے جس نے انصاف عدل اور اپنے منصب کی توہین کی، عمران خان کو صادق اور امین کا سرٹیفکیٹ نواز شریف کی مخالفت پر ملا ہے، نواز شریف کو جتنا دباؤ گے اتنا نواز شریف مضبوط ہو گا، نواز شریف کے خلاف فیصلے سے نواز شریف کو کم اور عدل اور انصاف کا نقصان زیادہ ہوا ہے۔

وہ جمعہ کو یہاں مسلم لیگ (ن) کے سوشل میڈیا کنونشن خطاب کر رہی تھیں۔ مریم نواز نے کہا کہ مانسہرہ کے عوام کو نواز شریف اور اس کی بیٹی کا سلام ہے، میں تو سوشل میڈیا کا کنونشن سمجھ کر آئی تھی مجھے نہیں پتہ تھا پورا شہر آ جائے گا، آپ کی محبتوں کا شکریہ ادا کرتی ہوں، میں سوچ رہی ہوں کہ آپ میرا استقبال کرنے اتنی تعداد میں آئے ہو تو نواز شریف کیلئے کتنے لوگ آئیں گے، یہاں تو جگہ نہیں ہے اور لوگوں کیلئے ،مجھے لگ رہا ہے کہ نواز شریف کو عوام سے دور رکھنے کی سازشیں ناکام ہو گئی ہیں اور عوام نواز شریف سے عشق کرتے ہیں، ہر جلسوں اور ضمنی انتخاب میں عوامی عدالت نواز شریف کے حق میں ووٹ دے رہی ہے، عوام نواز شریف کی نااہلی کے فیصلے کو نہیں مانتے، ابھی دو دن پہلے لودھراں کی عوامی عدالت نے انصاف کیا کہ نااہلی کو اہل اور اہل کو نااہل کر دیا، جس طرح پانامہ بینچ نے مقدمہ چلنے سے پہلے نواز شریف کو سزا سنائی، اسی طرح عوام نے انتخاب سے پہلے نواز شریف کے مخالفوں کو سزا سنا دی ہے، ووٹ کا تقدس بحال کرنا ہو گا اور عوام کے فیصلے کو عزت دینی ہو گی، نواز شریف کا مقدمہ عوام نے اپنے ہاتھوں میں لے لیا ہے۔

نواز شریف کا فیصلہ عدالتوں نے نہیں آپ نے کرنا ہے، اگر نواز شریف نے ایک پیسے کی بھی چوری کی ہوتی تو نواز شریف کے حق میں عوامی فیصلہ نہ آتا۔ مریم نواز نے کہا کہ مخالفین آج خالی کرسیوں کو دیکھ رہے ہیں اور چھپ کر بیٹھے ہیں جنہوں نے یہ مذاق سنایا تھا مجھے کیوں نکالا، آج وہ کہتے ہوں گے کہ ہم نے نواز شریف کو کیوں نوالا، بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر منتخب وزیراعظم کو دفتر سے نکال دیا گیا، عوام کی ووٹ کی پرچی کو پھاڑ کر پھینک دینا کیا چوری نہیں؟کیا یہ عوام کے ووٹ پرڈاکہ نہیں؟کیا یہ دھاندلی نہیں؟عوام دیکھ رہی ہے کہ نواز شریف کی ساری زندگی سزاؤں سے بھری ہے، کبھی جلا وطن کیا، کبھی عمر قید، کبھی نااہل اور کبھی اقامہ، اس30سال میں نواز شریف کو عوام سے دور کرنے کی کوشش کی گئی، کہتے ہیں ان کا نام ای سی ایل میں ڈالو، کبھی کہتے ہو نواز شریف ملک کے اندر نہیں آ سکتا اور کبھی کہتے ہیں، ملک سے باہر نہیں جا سکتا، نواز شریف کو ای سی ایل میں ڈالنے کی ضرورت نہیں وہ یہیں رہے گا اور ہم بھاگنے والوں میں سے نہیں ہیں، جس دن کسی عوامی عدالت سے نواز شریف کے حق میں فیصلہ آتا ہے تو عدالت عالیہ کے ججز سے کئی گالیاں سننے کو ملتی ہیں، مجھے بتاؤ عدالت کی توہین ہوتی ہے کیا عوام کے ووٹ کی توہین نہیں؟منتخب وزیراعظم کو گالی کیا عوام کو گالی نہیں؟ کیا آئین پاکستان میں گالی دینے کی کوئی شق ہے؟

کیا انتقام لینے کی کوئی شق ہے؟بغض اور عناد رکھنے کی کوئی شق ہے؟عوام کے نمائندوں کو گالی دے کر کون سے آئین کی تشریح ہو رہی ہے؟اقامہ فیصلہ عوام کو نامنظور ہے،دنیا کے کسی ملک میں اور عدالت میں غلط فیصلوں پر تنقید کو توہین عدالت نہیں سمجھا جاتا، جہاں آپ تنقید نہیں کر سکتے اس نظام کو آپ جمہوری نہیں کہہ سکتے، اگر اعلیٰ عدلیہ کے ججز پارٹی بن کر عمران خان والی زبان استعمال کریں گے تو اس کا جواب بھی ملے گا اور وہی جواب ملے گا اس زبان کا جو نوز شریف کے پاس مخالفین کو دیا جاتا ہے،آپ کون ہیں کسی کی تذلیل کرنے والے اور نواز شریف کو جرائم کے کردار سے تشبیہ دینے والے ہمیں پہلے ہی سمجھ آرہی تھی کہ کیا ہو رہا ہے، درست فیصلوں کو وضاحتوں اور قسمیں کھانے کی ضرورت نہیں پڑتی اور نہ ہی تقریریں کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، توہین عدالت کون کر رہا ہے؟توہین عدالت وہ کر رہا ہے جس نے عدل اور انصاف کی توہین کی ہے اور اپنے منصب کی توہین کی ہے، اس میں نقصان نواز شریف کا کم اور عدل کا زیادہ ہوا ہے، لوگوں کا اعتماد اعلیٰ عدلیہ پر سے اٹھ چکا ہے، ہرشہر کے لوگوں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچی ہے ،نقصان عدل اور انصاف اور پاکستان کو پہنچا ہے۔ مریم نواز نے کہا کہ آپ منتخب وزیراعظم کو ہتھکڑی لگا دیتے ہو، ہائی جیکر بنا دیتے ہو کیا اس کی توہین نہیں ہوتی، آپ کو اپنی توہین کا نوٹس خود لینا پڑے گا، اگر توہین عدالت میں پکڑنا ہے جس نے شرمناک کا لفظ استعمال کیا اور کہا کہ عدلیہ نے دھاندلی کر کے نواز شریف کو جتوایا، بلواؤ اس مشرف کو جس نے آئین کو توڑا، عمران کے پاس رونے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے، یہ کون سی انتقام کی آگ ہے نواز شریف کے خلاف جو ٹھنڈی نہیں ہو رہی۔

اب اس کی صدارت کے پیچھے پڑ گئے ہو، ان کو پتہ نہیں کہ نواز شریف (ن)لیگ کا صدر ہو یا نہ ہو عوام کو فرق نہیں پڑتا، نواز شریف کو جتنا دباؤ گے وہ اتنا مضبوط ہو کر سامنے آئے گا، نااہلی کرانے والے سوچ رہے ہیں کہ نواز شریف کو کیوں نکالا، عمران خان اب غلطیوں سے سیکھنے کا نہیں نامہ اعمال دکھانے کا وقت ہے، جہانگیر ترین تحریک انصاف میں عمران خان سے بھی مضبوط ہے اور نواز شریف کے گمنام سپاہی نے جہانگیر ترین کے بیٹے کو چاروں شانے چت کر دیا ، اب جب چھپنے کی جگہ نہیں مل رہی عمران کو تو کہتے ہیں امیدوار ٹھیک نہیں تھا، جتنے بھی امیدوار ان کے آئے سب کا قصور وار عمران خان ہے کیونکہ اس نے تحریک انصاف کو عوام کے خلاف سازشیں کرنے والی جماعت کے طور پر پیش کیا اور عوام نے تحریک انصاف سے اپنا تعلق توڑ لیا، مہرہ بن کر عوام کے ووٹ پر ڈاکہ ڈالنے والے عوام کے پاس کیا منہ لے کر جائیں گے، ان کی تبدیلی، ڈیم، دو ارب درخت، سیاست جھوٹی اور یہ سب بھی جھوٹے ہیں، ان کی صداقت اور امانت کا سرٹیفکیٹ نواز شریف کی مخالفت کی وجہ سے ملاہے، یہ نواز شریف کے بغض میں دیا گیا ہے، وعدہ کرو کہ اپنے ووٹ کی عزت کراؤ گے اور اسے بے توقیر نہیں ہونے دو گے، اپنی منتخب حکومت کی عزت کی حفاظت کرو گے، میں دعوت دیتی ہوں کہ اس جدوجہد میں نواز شریف کے ساتھ بن جاؤ۔