293

بجلی کی چار تقسیم کا رکمپنیوں کے سربراہان عہدوں سے فارغ

سلام آباد۔وزارت توانائی پاور ڈویژن نے کاکردگی نہ دکھانے اور بجلی نقصانات پر قابو نہ پانے پر چار بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے سربراہان عہدوں سے ہٹا دیا،ہٹائے جانے والوں میں پشاور لاہور سکھر اور کوئٹہ کی بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے سی ای اوز شامل ہیں جبکہ تین بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی ،حیدر آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی اور ملتان الیکڑک سپلائی کمپنی کے سربراہوں کو بھی نوٹسزجاری کردئیے ہیں ۔

لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی کے سی ای او واجد کاظمی پیسکو کے سی ای او سید شبیر جیلانی،کیسکو کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی کے کے سی ای او رحمت اللہ بلوچ اور سکھر ا لیکٹرک سپلائی کمپنی کے سی ای او عبداللطیف انجم کو معطل کردیا گیا ،وزارت تونائی پاور ڈویشن کیمطابق ایسی ڈسکوز جن کے لائن لاسز کم ہونے کی بجائے باڑھ رہے ہیں ان ڈسکوز کے سربراہوں کو ہتا دیا گیا ہے ملک میں کام کرنے والی بجلی کی تمام تقسیم کار کمپنیوں کو وارننگ دی تھی کہ آپ اپنی کارکردگی بہتر بنائیں اور لائن لاسز میں کمی لانے میں کارروائیاں کریں لیکن یہ سربراہان کارکردگی دکھانے میں بری طرح ناکام ہوئے ہیں دوہزار سترہ میں اکتوبر سے دسمبر تک بجلی نقصانات گزشتہ سال کے اسی عرصے سے 18ارب روپے زائد ہیں۔

پاور ڈویڑن حکام کے مطابق ایسے افسران کیساتھ کسی قسم کی کی رعایت نہیں برتی جائے گی جو افسران کام کرسکیں گے ان کو رکھا جائیگا باقیوں کو فارغ کردیا جائیگا ذرائع کے مطابق ڈسکوز میں کام کرنے والے چھوٹے افسران ایس ڈی اوز اور میٹر ریڈرز کے سر پر بھی تلوار لٹکنے لگی ہے ان افسران کے خلاد کارروائیاں پیک سیز ن سے پہلے ہی شروع کی جائیں گی ترجمان پاور ڈویڑن کے مطابق بجلی چوری پر قابو پانے کی کوششیں جاری ہیں حکومت بجلی کی طلب اور رسد کا فرق ختم کرنے میں کامیاب ہو گئی ہیں۔

سسٹم میں اب بھی اضافی بجلی موجود ہیدوہزار سترہ میں اکتوبر سے دسمبر تک گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں دو ارب یونٹ سے زیادہ اضافی بجلی صارفین کو فراہم کی تھی وزارت تونائی پاور ڈوژن کے مطابق 2016میں اکتوبر کے مہینے میں 8ارب اور 6کروڑ یونٹس بجی صارفین تک پہنچائی گئی جبکہ اکتوبر 2017میں 9ارب اور 41کروڑ یونٹس مہیا کئے گئے جو کہ گزشتہ برس کے مقابلے میں ایک ارب اور چھتیس کروڑ یونٹس زیادہ ہے۔

واضح رہے کہ حکومت نے ملک بھر میں فری لوڈشیڈنگ کا اعلان کیا تھا ور کہا تھا کہ ملک بھر میں اضافی بجلی موجود ہے لیکن زیرو لوڈ شیڈنگ کا اعلان صرف اعلان تک ہی محدود تھا جبکہ اپوزیشن کی جانب لائن لاسز میں اضافہ اور بجلی کے گردشی قرضہ میں مسلسل اضافے پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے حکومتا تاحال اپوزیشن کی جانب اٹھائے جانے والے سوالات کہ ملک بھر میں بجلی قیمتیں 60فیصد براھائی گئیں جبکہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں بھی آدھی سے زائد کم ہوئیں لیکن گردشہ قرضہ پھر بھی پانچ سو ارب سے زائد ہے اس سوال کا جواب حکومتی وزراء اور بیوروکریسی دینے میں بری طرح ناکام ہوئی ہے۔