99

'رانا ثنا اللہ کو عالمی گروہ کی نشاندہی کے بعد گرفتار کیا گیا'

وزیرمملکت برائے انسداد منشیات شہریار آفریدی نے کہا ہے کہ رانا ثنا اللہ بین الاقوامی گروہ کا حصہ تھے، ان کی گرفتاری کے لیے ان کی گاڑی کی مسلسل 3 ہفتوں سے نگرانی کی جاتی رہی ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شہریار آفریدی کا کہنا تھا کہ کوئی بھی رکن اسمبلی قانون سے بالا تر نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج رانا ثنا اللہ کی گاڑی سے نکلنے والے 15 کلو ہیروئن کا معاملہ نہیں بلکہ یہ ملک کی سالمیت کا معاملہ ہے، جب ایسے معاملات میں ایوان میں بیٹھنے والے منشیات فروشی کے کاروبار میں عمل دخل ہو تو قوموں کے جنازے نکلتے ہیں۔

شہریار آفریدی نے بتایا کہ رانا ثنا اللہ کی گاڑی سے برآمد ہونے والی منشیات پہلے فیصل آباد اور پھر لاہور جانی تھی جس کے بعد یہ ملک سے باہر چلی جاتی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس تمام جرم میں بین الاقوامی گروہ ملوث ہے، جس کے کچھ کارندے گرفتار ہوئے اور ان کی نشاندہی پر ہی رانا ثنا اللہ کو گرفتار کیا گیا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ لیگی رہنما کو گرفتار کرنے سے قبل ان کی نگرانی کی گئی اور پھر 3 ہفتوں کے بعد انہیں گرفتار کیا گیا۔

شہریار آفریدی نے بتایا کہ یہ بڑے لوگ ہیں، ان کی گاڑیوں میں منشیات اسمگلنگ ہوتی ہے، اور ان کی گاڑیوں کو ناکے پر روکا نہیں جاتا اور نہ ہی ان کی تلاشی کی جاتی ہے۔

وزیر مملکت نے بتایا کہ رانا ثنا اللہ کے ساتھ ان کے گھر کی خواتین ہونے کی وجہ سے انہیں گاڑی میں منشیات ہونے کے باوجود گرفتار نہیں کیا گیا اور یہاں ملکی فورسز نے اقدار کا خیال رکھا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک میں حکومت کی جرائم کے خلاف عدم برداشت کی پالیسی ہے اور اس میں بڑے مگرمچھوں کو بھی پکڑا جائے گا۔

شہریار آفریدی نے کہا کہ ملک میں منشیات کی لعنت سے جان چھڑانے کے لیے پوری قوم کو متحد ہونا پڑے گا اور اس سے چھٹکارا حاصل کرنے پڑے گا۔

اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) اینٹی نارکوٹسک فورس (اے این ایف) کا کہنا تھا کہ ملک میں اے این ایف ایک پیشہ ور فورس ہے جس نے متعدد کامیاب کارروائیاں کیں۔

ڈی جی اے این ایف کا کہنا تھا کہ انسداد منشیات کے لیے ملک ہر شہری کو اپنا حصہ ڈالنا ہے کیونکہ یہ ایک ناسور ہے جو ہمارے تعلیمی اداروں تک پہنچ چکا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ان کے پاس رانا ثنا اللہ کے خلاف ثبوت ہیں جنہیں عدالت میں پیش کیا جائے گا، کیونکہ اے این ایف بغیر ثبوت کسی کے خلاف کارروائی نہیں کرتا۔

رانا ثنا اللہ کی گرفتاری

خیال رہے کہ یکم جولائی کو پاکستان مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر اور رکن قومی اسمبلی رانا ثنا اللہ کو اے این ایف نے ان کی گاڑی سے منشیات برآمد ہونے پر گرفتار کیا تھا۔

بعد ازاں 2 جولائی کو اے این ایف نے لیگی رہنما کو عدالت میں پیش کیا گیا جس کے بعد انہیں 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا۔

رانا ثنا اللہ کی گرفتار کے بعد مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور اسے انتقامی کارروائی قرار دیا گیا۔