79

شور شرابہ کرنے سے احتساب کا عمل نہیں رکے گا‘ فواد چوہدری

اسلام آباد۔وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ریمانڈ کے دوران کسی مجرم کو پہلی بار قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیش کیاگیاہے ،شور شرابہ کرنے سے احتساب کا عمل نہیں رکے گا، اپوزیشن اسمبلیوں کو ڈیکورم کے مطابق چلائے تو ان کے تمام جائز مطالبات سننے کیلئے تیار ہیں،جن لوگوں نے سیف الرحمن کو نیب کا چیئرمین بنا کر سیاستدانوں کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا وہ ہمیں سبق پڑھا رہے ہیں،احتساب کاعمل شروع ہوگا تو ہی جمہوریت مضبوط ہوگی، حکومت نے پہلی بار صاف پانی، گھروں اور ماحول کو صاف کرنے کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پارلیمنٹ ہا ؤ س کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ریمانڈ کے دوران کسی مجرم کو پہلی بار قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیش کیا جا رہا ہے۔ حکومت نے اپوزیشن کے مطالبے پر کھلے دل کا مظاہرہ کرتے ہوئے شہباز شریف کا ڈیمانڈ لیٹرجاری کیا۔احتساب کا یہ عمل گزشتہ دور حکومت میں شروع ہوا تھا جس کا موجودہ حکومت سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔جو الیکشن پی ٹی آئی جیتے اس میں دھاندلی اور جو ن لیگ جیتے وہ شفاف یہ ن لیگ کی عجیب منطق ہے۔ادارے ن لئگ کی خواہشات کے مطابق فیصلے کریں تو انصاف کا بول بالا اور اگر فیصلہ ان کے خلاف آجائے تو سازش نظر آتی ہی اور جمہوریت خطرے میں پڑ جاتی ہے۔گزشتہ روز پنجاب اسمبلی کے اندر اپوزیشن کا ہنگامہ اور توڑ پھوڑ قابل مذمت ہے۔ اپوزیشن اسمبلیوں کو ڈیکورم کے مطابق چلائے تو ان کے تمام جائز مطالبات سننے کیلئے تیار ہیں۔حکومت قومی اسمبلی کے اندر احتساب کے موجودہ عمل پر ڈیبیٹ کرانے کیلئے تیار ہے بشرطیکہ اپوزشن تعمیری رویہ اپنائے۔

الیکشن میں مبینہ دھاندلی کے ساتھ ساتھ ملک کی معاشی صورتحال پر کمیشن بنانے کیلئے سپیکر قومی اسمبلی کو درخواست دے رہا ہوں تاکہ ملک کی معیشت کو تباہ کرنے کو قرار واقعی سزا دی جا سکے۔نیب کے سربراہ کو ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے خود چنا تھا اب اداروں کے خلاف ہنگامہ آرائی کرنا ٹھیک نہیں ہے۔حکومت کسی فرد یا جماعت کی خواہش پر احتساب کا جاری عمل روک نہیں سکتی۔

اسمبلی کے اندر احتساب کے قانون میں تعمیری ترمیم کی جا سکتی ہے۔ جن لوگوں کو گرفتاری کا ڈر ہے سب سے زیادہ وہ احتساب کے عمل پر شور مچا رہے ہیں۔جن لوگوں سے سیف الرحمن کو نیب کا چیئرمین بنا کر سیاستدانوں کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا وہ ہمیں سبق پڑھا نے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کو اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے۔حکومت نے پہلی بار ضمنی الیکشن میں کسی کمشنر یا سرکاری افسر کو استعمال نہیں کیا۔حکومت پاکستان کے چوری شدہ پیسے کو واپس لانے کیلئے پر عزم ہے۔احتساب کاعمل شروع ہوگا تو ہی جمہوریت مضبوط ہوگی۔کسی کی کوئی حیثیت نہیں کہ حکومت کے خلاف سازش کر سکیں۔ تمام ادارے حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں اور اس کی معاونت کر رہے ہیں۔حکومت نے ملکی تاریخ میں پہلی بار سب سے بڑی ہاسنگ سکیم کا آغاز کیا ہے ۔ حکومت نے پہلی بار صاف پانی، گھروں اور ماحول کو صاف کرنے کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا ہے۔