7

مکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت پر بات چیت جاری ہے: شام

شام نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت کے امکان پر باضابطہ مذاکرات شروع ہونے کی تصدیق کردی ہے، تاہم دمشق نے تاحال معاہدے کا حصہ بننے کا حتمی فیصلہ نہیں کیا۔

شامی وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے بحرین میں منعقدہ منامہ ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شام کی مکہ دفاعی اتحاد میں شمولیت کے معاملے کا جائزہ لینے کے لیے بات چیت جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ شام خطے کی سلامتی کا ایک اہم حصہ ہے اور دمشق ایسے تمام علاقائی فریم ورکس کی حمایت کرے گا جو علاقائی استحکام اور مشترکہ دفاع کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوں۔

اسعد الشیبانی کے مطابق مشرق وسطیٰ کو اس وقت مشترکہ دفاعی اور بازدار قوت کے نظام کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔

مکہ دفاعی معاہدہ کیا ہے؟

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان رواں سال اگست میں طے پایا تھا۔ معاہدے کی بنیادی شق کے مطابق کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملے کو تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

معاہدے میں دفاعی تعاون، فوجی رابطوں، انٹیلی جنس کے تبادلے اور مشترکہ دفاعی صلاحیتوں کو فروغ دینے کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے۔

شام کی ممکنہ شمولیت سے اس دفاعی معاہدے کے دائرہ کار میں توسیع کا امکان پیدا ہوگیا ہے، تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلے کا انتظار ہے۔