پنجاب کے شہر سیالکوٹ میں ٹک ٹاکر انصر محمود عرف مسٹر پتلو کی مہندی کی تقریب کے دوران بھگدڑ مچنے سے 2 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے۔ پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کرکے 6 افراد کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ ٹک ٹاکر مسٹر پتلو سمیت دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
پولیس کے مطابق مقدمے میں مسٹر پتلو سمیت 9 نامزد اور 45 نامعلوم افراد کو ملزم قرار دیا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں قتل بالسبب، سرکاری احکامات کی خلاف ورزی، توڑ پھوڑ، اشتعال انگیزی اور غیر قانونی اجتماع سے متعلق دفعات شامل کی گئی ہیں۔
واقعے میں زخمی ہونے والا ریحان اتوار کو لاہور کے اسپتال میں دم توڑ گیا۔ اسے تشویشناک حالت میں سیالکوٹ سے لاہور منتقل کیا گیا تھا۔ اس سے قبل عقیل نامی شخص بھی بھگدڑ کے دوران موقع پر جاں بحق ہوگیا تھا۔
مہندی کی تقریب میں بھگدڑ کیسے مچی؟
پولیس کی مدعیت میں درج ایف آئی آر کے مطابق ہفتے کی شام ڈسکہ روڈ پر واقع فراز کرکٹ گراؤنڈ میں مسٹر پتلو کی مہندی کی تقریب جاری تھی۔ منتظمین نے سوشل میڈیا کے ذریعے موٹر سائیکلوں، کار اور دیگر قیمتی انعامات دینے کا اعلان کرکے لوگوں کو تقریب میں شرکت کی دعوت دی تھی۔
پولیس کے مطابق تقریب میں عام لوگوں کی بڑی تعداد کو راغب کرنے کے لیے 2 کروڑ روپے تقسیم کرنے، ایک کار، 50 موٹر سائیکلیں، موبائل فونز اور دیگر قیمتی تحائف دینے کی تشہیر بھی کی گئی تھی۔
ایف آئی آر کے متن میں کہا گیا ہے کہ مسٹر پتلو نے اسٹیج پر آکر شرکا کو فوری طور پر گراؤنڈ میں داخل ہونے کا اعلان کیا، جس کے بعد لوگوں نے بیک وقت اندر جانے کی کوشش کی اور بھگدڑ مچ گئی۔
سیالکوٹ کے علاوہ گوجرانوالہ، گجرات، وزیر آباد، منڈی بہاؤالدین اور نارووال سے بھی بڑی تعداد میں لوگ تقریب میں پہنچے تھے۔ پولیس کے مطابق واقعے کے بعد ریسکیو 1122 اور دیگر امدادی ٹیموں نے زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا۔
تقریب کا این او سی منسوخ کردیا گیا تھا
ضلعی انتظامیہ کے ترجمان کے مطابق مسٹر پتلو کو ڈسکہ روڈ پر چار دیواری کے اندر نجی تقریب اور محفلِ سماع کے انعقاد کے لیے این او سی جاری کیا گیا تھا، تاہم شرائط کی خلاف ورزی پر تقریب شروع ہونے سے قبل ہی اجازت نامہ منسوخ کردیا گیا تھا۔
ترجمان کے مطابق این او سی میں پروگرام کے آغاز کا وقت نمازِ عشا کے بعد مقرر تھا، لیکن منتظمین کی جانب سے شام تقریباً 4 بجے ہی انتظامات میں خلاف ورزیوں کی اطلاعات موصول ہوئیں، جس پر ڈپٹی کمشنر نے این او سی منسوخ کردیا۔
ابتدائی پولیس تحقیقات کے مطابق منتظمین نے سوشل میڈیا پر قیمتی انعامات کی تشہیر کرکے بڑی تعداد میں لوگوں کو مدعو کیا، جبکہ تقریب کے دوران لاؤڈ اسپیکر پر شرکا کو بیک وقت گراؤنڈ میں داخل ہونے کا کہا گیا، جس سے بھگدڑ مچ گئی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ منتظمین نے اجازت نامے کی شرائط اور حفاظتی ایس او پیز کی خلاف ورزی کی۔ واقعے کے دوران مین ڈسکہ سیالکوٹ روڈ پر ٹریفک بھی متاثر ہوئی، جبکہ ہنگامہ آرائی اور شہریوں کی املاک کو نقصان پہنچنے کے واقعات بھی پیش آئے۔
پولیس کے مطابق مسٹر پتلو سمیت مفرور ملزمان کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔









