2

کروم بکس اور لیپ ٹاپ تقسیم کرنا تعلیمی بحران کا حل نہیں: جے یو آئی

جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) نے کہا ہے کہ پاکستان میں تعلیمی بحران کے خاتمے کیلئے کروم بکس اور لیپ ٹاپ تقسیم کرنا کافی نہیں، بلکہ اس مسئلے کے دیرپا اور پائیدار حل کیلئے مؤثر تعلیمی پالیسی تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔

جے یو آئی کے ترجمان اسلم غوری نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان میں ڈھائی کروڑ سے زائد بچے تعلیم سے محروم ہیں، جبکہ اسکولوں سے باہر بچوں کی تعداد کے حوالے سے پاکستان سرفہرست ہے۔ ان کے مطابق اس بحران سے نمٹنے کیلئے طویل المدتی منصوبہ بندی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

اسلم غوری نے حکومت کی تعلیمی ترجیحات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ تعلیمی سہولیات فراہم کرنا حکومت کا احسان نہیں بلکہ ہر بچے کا بنیادی حق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیم کے شعبے میں طبقاتی تفریق ختم کیے بغیر ترقی ممکن نہیں۔

جے یو آئی کے ترجمان نے کہا کہChromebooks Distribution  ایک طرف اشرافیہ کے بچوں کو جدید سہولیات سے آراستہ اسکول میسر ہیں، جبکہ دوسری جانب غریب بچوں کے تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولیات، حتیٰ کہ واش رومز کی بھی کمی ہے۔

انہوں نے کروم بکس اور لیپ ٹاپ کی تقسیم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ محض آلات فراہم کرنے کے بجائے تعلیمی اداروں کی حالت بہتر بنانے، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور تمام بچوں کیلئے معیاری تعلیم یقینی بنانے پر توجہ دی جانی چاہیے۔

اسلم غوری نے مزید کہا کہ حکومتی پالیسیوں کے باعث ہر سال بڑی تعداد میں نوجوان بہتر مستقبل اور روزگار کی تلاش میں بیرون ملک جانے پر مجبور ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق ملک میں ایسے حالات پیدا کرنے کی ضرورت ہے جہاں نوجوانوں کو تعلیم، روزگار اور آگے بڑھنے کے مساوی مواقع میسر ہوں۔

جے یو آئی کے ترجمان نے مطالبہ کیا کہ حکومت تعلیمی بحران کے حل کیلئے جامع اور پائیدار حکمت عملی اختیار کرے تاکہ ہر بچے کو معیاری تعلیم اور بنیادی سہولیات تک رسائی حاصل ہوسکے۔