سکیورٹی فورسز نے ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے زرکانی میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر ایک کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران بھارتی سرپرستی یافتہ ’فتنۃ الخوارج‘ سے تعلق رکھنے والے 6 خوارج کو جہنم واصل کر دیا ہے۔ پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق اس کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے ساتھ فائرنگ کا شدید تبادلہ ہوا، جس میں مادرِ وطن کا دفاع کرتے ہوئے پاک فوج کے دو بہادر جوانوں نائیک غلام مرتضیٰ اور سپاہی تاثیر احمد نے جامِ شہادت نوش کیا۔
-
آپریشن کی تفصیل: یہ کارروائی 24 اکتوبر 2026 کو زرکانی کے علاقے میں خوارج کی موجودگی کی مصدقہ اطلاع پر کی گئی، جہاں سکیورٹی فورسز نے مؤثر انداز میں گھات لگا کر دہشت گردوں کے ٹھکانے کو نشانہ بنایا۔
-
شہداء کی قربانی: شدید فائرنگ کے تبادلے میں بہادری سے مقابلہ کرنے والے نائیک غلام مرتضیٰ (عمر 36 سال، ساکن ضلع گجرات) اور سپاہی تاثیر احمد (عمر 30 سال، ساکن ضلع تلہ گنگ) نے دلیری کا مظاہرہ کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔
-
برآمدگی اور پس منظر: ہلاک ہونے والے خوارج کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور بارودی مواد برآمد کیا گیا ہے۔ یہ دہشت گرد سکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں پر متعدد حملوں اور معصوم شہریوں کے ٹارگٹ کلنگ سمیت سنگین جرائم میں ملوث رہے تھے۔
-
عزمِ استحکام کے تحت کارروائیاں جاری: آئی ایس پی آر نے واضح کیا ہے کہ علاقے میں موجود دیگر دہشت گردوں کے مکمل خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشنز پوری رفتار سے جاری ہیں۔ ترجمان پاک فوج کا کہنا ہے کہ وفاقی ایپکس کمیٹی کی منظور کردہ قومی ایکشن پلان کی ہدایات اور وژن ’’عزمِ استحکام‘‘ کے تحت سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک سے بیرونی حمایت یافتہ دہشت گردی کے مکمل صفایا تک اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گے، اور شہداء کی یہ عظیم قربانیاں دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔









