3

خیبرپختونخوا میں گورنر راج کی تیاریوں کے دوران جنوبی اور سابقہ فاٹا اضلاع کے لیے الگ سیکرٹریٹ کے قیام کا فیصلہ

اسلام آباد / پشاور: ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کی جانب سے خیبرپختونخوا میں ممکنہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی منظوری کے بعد صوبے کا انتظامی کنٹرول گورنر کے پاس چلے جانے کا امکان ہے، جبکہ امن و امان کی گھٹتی صورتحال اور سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک الگ انتظامی ڈھانچہ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ذرائع کا بتانا ہے کہ اس کے تحت صوبے کے 8 سابقہ فاٹا (مظلوم اضلاع) اور 4 جنوبی اضلاع جن میں ٹانک، ڈی ڈیرہ اسماعیل خان، لکی مروت اور بنوں شامل ہیں، کے لیے ایک الگ سیکرٹریٹ قائم کیا جائے گا۔ اس نئے انتظامی سیٹ اپ کی اہم خصوصیات درج ذیل ہیں:

  • انتظامی افسران: اس الگ سیکرٹریٹ کے لیے ایک الگ ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور ایک ایڈیشنل آئی جی پولیس تعینات کیے جائیں گے۔

  • ہیڈکوارٹر اور فنڈز: سیکرٹریٹ کا مرکزی ہیڈکوارٹر کسی بھی سابقہ فاٹا کے ضلع میں بنائے جانے کا قوی امکان ہے، اور اس کے موثر آپریشنز کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے خصوصی فنڈز بھی فراہم کیے جائیں گے۔