پشاور: خیبرپختونخوا میں وفاقی کابینہ کی جانب سے ممکنہ ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے فیصلوں کے بعد صوبائی سیاسی صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت کے اقدامات پر انتہائی سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ حکومت کے پاس ان کے مطالبات تسلیم کرنے کے علاوہ اور کوئی آپشن نہیں ہے۔
پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے چیلنج کیا کہ اگر حکومت میں ہمت ہے تو وہ کھلم کھلا ایمرجنسی یا گورنر راج کا باضابطہ اعلان کرے، کیونکہ بغیر اعلان کے اس قسم کے انتظامی ہتھکنڈے اور رکاوٹیں کھڑی کرنا آئین شکنی اور بغاوت کے زمرے میں آتا ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ وہ اپنے آئینی اور قانونی مؤقف سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے، اور جب تک تمام مطالبات پورے نہیں ہوتے، پی ٹی آئی کا لانگ مارچ پوری آب و تاب کے ساتھ جاری رہے گا۔ سہیل آفریدی نے خبردار کیا کہ اگر صوبے میں غیر آئینی طور پر ایمرجنسی یا گورنر راج نافذ کرنے کی کوشش کی گئی تو عوام ایسا ردعمل دیں گے کہ لوگ ترکی کی تاریخ کے واقعات بھی بھول جائیں گے۔









