پاکستان پیپلزپارٹی کی رہنما شیری رحمان نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کو 4 اکتوبر کا لانگ مارچ مؤخر یا منسوخ کرنے کے بجائے اسے مکمل طور پر ختم کرنا ہوگا۔
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیری رحمان نے کہا کہ پی ٹی آئی کو غیرمشروط طور پر لانگ مارچ ختم کرنا چاہیے، کیونکہ ان کے مطابق ایسے اقدامات سے تشدد کم ہونے کے بجائے بڑھ سکتا ہے۔
انہوں نے خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات میں سکیورٹی اہلکار اور دیگر شہری جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کیلئے دہشت گردی ریڈ لائن ہے۔
شیری رحمان نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں سیاسی معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی کے بعض مطالبات پر اس مرحلے پر تفصیلی گفتگو نہیں کی جاسکتی اور دونوں فریقوں کے درمیان اعتماد برقرار رکھنا ضروری ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری مذاکرات آئندہ مرحلے میں کسی نتیجے تک پہنچیں گے اور موجودہ سیاسی صورتحال کے حل کیلئے مزید بات چیت کی جائے گی۔
واضح رہے کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان 2 اکتوبر کو مذاکرات کا پہلا دور ہوا، جس کے بعد دونوں جانب سے مزید بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ مذاکرات میں خیبرپختونخوا کی امن و امان کی صورتحال اور 4 اکتوبر کے مجوزہ لانگ مارچ سمیت سیاسی امور زیر بحث آئے۔









