4

وفاقی آئینی عدالت کے نئے رولز جاری: توہینِ عدالت، نظرثانی اور ضمانتی فیس سے متعلق ضابطے طے

وفاقی آئینی عدالت نے اپنے نئے رولز پبلک کر دیے ہیں، جن کے تحت عدالت کو وسیع اختیارات تفویض کیے گئے ہیں۔ جاری کردہ رولز کے مطابق کسی بھی شہری کی درخواست پر توہینِ عدالت کی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے، جبکہ عدالت کو خود توہینِ عدالت کا ازخود نوٹس لینے کا اختیار بھی حاصل ہوگا۔

نظرثانی کی درخواستوں سے متعلق سخت ضابطے مقرر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بدنیتی پر مبنی نظرثانی اپیل دائر کرنے والے وکیل کے خلاف بھی کارروائی کی جا سکے گی۔ ہر نظرثانی درخواست سے قبل 50 ہزار روپے زرِ ضمانت (سکیورٹی فیس) جمع کرانا لازمی ہوگا، اور اگر درخواست خارج یا بے بنیاد قرار دی گئی تو یہ زرِ ضمانت ضبط کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ رولز میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ نظرثانی کی درخواست حتیٰ الامکان اسی اصل بینچ کے سامنے لگائی جائے گی، جبکہ نظرثانی کے فیصلے کے خلاف مزید کوئی نظرثانی درخواست دائر نہیں ہو سکے گی اور نہ ہی رجسٹری ایسی کوئی درخواست قبول کرے گی۔