نئے معاشی افق
کسی بھی ترقی پذیر معیشت کے لئے معاشی استحکام کا مرحلہ جتنا کٹھن ہوتا ہے، اس کے بعد اصلاحات کا طویل مدتی اور نتیجہ خیز عمل اس سے کہیں زیادہ صبر آزما تقاضا رکھتا ہے۔ طویل عرصے تک اس تنقید کا سامنا کرنے کے بعد کہ موجودہ حکومت نے اگرچہ معیشت کو وقتی طور پر سنبھالا اور استحکام کی پٹری پر ڈالا ہے تاہم طویل مدتی لائحہ عمل پیش نہیں کیا جا سکا۔ اب تک کی جانے والی چند نمایاں اصلاحات میں ریفائنریز کو جدید خطوط پر استوار کرنا، بجلی تقسیم کرنے والی کمپنیوں کی نجکاری، پاور وہیلنگ کا نفاذ، پی آئی اے کی نجکاری کے لئے مالیاتی انتظام، ریکو ڈیک پر پیش رفت اور ٹیلی کام سیکٹر میں فائیو جی اسپیکٹرم کی کامیاب نیلامی اس بات کا ثبوت ہیں کہ کہیں نہ کہیں حکومتی سطح پر معاشی بہتری کی فکر پائی جاتی ہے۔
حالیہ چند ماہ کا ذکر کریں تو معاشی محاذ پر جو پیش رفت ہوئی ہے، اس کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، مارچ میں منعقد ہونے والی اسپیکٹرم نیلامی نے پاکستان میں فائیو جی کے نفاذ کی راہ ہموار کر دی ہے۔ دو ہزار اکیس کی اس نیلامی کے برعکس جس کا رسپانس انتہائی سست اور سرد مہری کا شکار رہا تھا، حالیہ نیلامی میں ملک کی تین بڑی ٹیلی کام کمپنیوں نے پرجوش حصہ لیا اور مجموعی طور پر پانچ سو ملین ڈالر کی لاگت سے اسپیکٹرم حاصل کیا۔ اس کے بدلے میں حکومت نے کمپنیوں کو کچھ رعایت بھی دی جیسے روپے میں ادائیگی کی اجازت اور طویل مدت کے لئے کیبور پلس تین فیصد کی سہولت، لیکن اس کے ساتھ سخت شرائط بھی جڑی ہیں جن کے تحت کمپنیوں کو اسلام آباد سے آغاز کر کے دو ہزار تیس تک ملک کے دس بڑے شہروں تک فائیو جی نیٹ ورک پھیلانا ہوگا اور فور جی کی بیس ایم بی پی ایس اسپیڈ کو بڑھا کر فائیو جی پر پچاس ایم بی پی ایس کرنا ہوگا۔ اس کے علاؤہ، ٹیلی کام آپریٹرز بشمول ’جاز‘ نے اگلے تین برس میں ایک ارب ڈالر کی بھاری سرمایہ کاری کا اعلان کر رکھا ہے، جو ڈیجیٹل اکانومی کے فروغ کے لئے سنگ ِمیل ہے۔
معیشت کے لئے ریڑھ کی ہڈی توانائی کا شعبہ اور اس سے وابستہ صنعتیں ہوتی ہیں۔ طویل عرصے سے یہ تلخ حقیقت ریکارڈ پر ہے کہ پاکستانی ریفائنریز صرف سب سے معیاری اور ہلکے خام تیل کو پراسیس کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ سیکٹر انتہائی بنیادی اور فرسودہ ٹیکنالوجی پر انحصار کر رہا ہے۔ وزارت پیٹرولیم کی براؤن فیلڈ ریفائنری اپ گریڈیشن پالیسی کا مقصد اسی خلیج کو پُر کرنا ہے تاکہ پاکستان نہ صرف اپنی ضروریات پوری کرے بلکہ ریفائنڈ شدہ پیٹرولیم مصنوعات کا برآمد کنندہ بھی بن سکے۔ تاہم اس پالیسی کے نفاذ کی راہ میں سب سے بڑا رکاوٹ فنڈز کا بحران اور کارپوریٹ مالیات کا توازن ہے۔ ملک کی چار بڑی ریفائنریز میں سے جنہوں نے اپ گریڈیشن کے منصوبے جمع کرائے ہیں، ان میں صرف اٹک ریفائنری ایسی ہے جس کی مالیاتی کتابیں اور کارکردگی اس قابل ہے کہ وہ اپنے حصے کے اخراجات خود برداشت کر سکے۔ اے آر ایل کا چھ سو ملین ڈالر کا پلان اس کی حقیقی ایکویٹی کا تقریباً ڈیڑھ گنا بنتا ہے، جو کہ ایک قابلِ عمل اور حقیقت پسندانہ ہدف ہے۔ اس کے برعکس، نیشنل ریفائنری، سائنرجیکو، اور پاکستان ریفائنری لمیٹڈ کے تخمینہ جات ان کی حقیقی ایکویٹی سے سات سے پچیس گنا زیادہ ہیں، جس کی وجہ سے ان کے لئے مالی وسائل کا حصول ایک پہاڑ عبور کرنے کے مترادف ہے۔
انہی مالیاتی خلیجوں کو پُر کرنے کے لئے وزیر خزانہ کی سطح پر عالمی مالیاتی اداروں، کثیر الجہتی قرض دہندگان اور امریکی ایگزم بینک کے حکام کے ساتھ ملاقاتیں کی گئی ہیں تاکہ ریفائنریز، پی آئی اے اور ریکو ڈیک جیسے منصوبوں کے لئے معاونت حاصل کی جا سکے، جس پر عوامی سطح پر یہ غلط فہمی بھی پھیلی کہ حکومت کوئی نیا کمرشل قرض لے رہی ہے۔ ماضی کے تلخ تجربات سے سبق سیکھتے ہوئے، کابینہ کی جانب سے منظور کردہ ریفائنری اپ گریڈیشن اکاؤنٹ میں سخت حفاظتی قواعد وضع کیے گئے ہیں۔ مشرف دور میں جب ریفائنرز کو مراعات دی گئی تھیں تو مبینہ طور پر فنڈز کا غلط استعمال ہوا اور مطلوبہ ذخیرہ اندوزی یا اپ گریڈیشن نہیں کی گئی جس کی دستاویزات جسٹس رانا بھگوانڈس کمیشن کی رپورٹ میں موجود ہیں۔ اس بار طریقہ کار یہ رکھا گیا ہے کہ مراعات سے حاصل ہونے والی رقوم براہِ راست وزارت کے زیر انتظام ایک محفوظ اکاؤنٹ میں رہیں گی، اور ریفائنرز کو فنڈز تک رسائی صرف اس وقت ملے گی جب وہ منصوبے کی مقررہ پانچ سالہ مدت، معیار اور شرائط کی سو فیصد تعمیل کا عملی ثبوت پیش کریں۔ بروقت تکمیل پر خصوصی مراعات اور تاخیر پر بھاری جرمانے اس نظام کو شفاف بنانے کے لئے بہترین ضامن ہیں۔
معیشت کے استحکام کا ایک اور اہم ستون بجلی کے شعبے میں ساختیاتی تبدیلیاں ہیں۔ وزارتِ توانائی کی جانب سے پاور وہیلنگ کے باضابطہ آغاز کا اعلان دو ہزار سترہ سے التوا کا شکار ایک ایسا فیصلہ تھا جس کے بغیر بجلی کی قیمتوں اور پیداواری لاگت میں اصلاحات کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ، چند اہم بجلی تقسیم کرنے والی کمپنیوں کو نجکاری کے مرحلے میں داخل کرنا سرکار کے اس عزم کا مظہر ہے کہ وہ معیشت میں ریاست کے بوجھ کو کم کر کے نجی شعبے کو محرک بنانا چاہتی ہے۔ عالمی اقتصادی فورم اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی حالیہ رپورٹس کے مطابق، پاکستان کی معیشت اس وقت ایک ایسے نازک موڑ پر ہے جہاں میکرو اکنامیک اشاریے تو بہتری کی نوید سنا رہے ہیں، مگر مہنگائی کی شرح، بیرونی قرضوں کے دباؤ اور توانائی کے بڑھتے ہوئے نرخوں کی وجہ سے نجی شعبے کی لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ عالمی منڈی میں خام تیل کے اتار چڑھاؤ اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے تناظر میں، پاکستان جیسے ملک کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی سپلائی چین کو مضبوط اور لچکدار بنائے۔
ان اصلاحات کو کاغذ سے نکال کر زمینی حقیقت بنانے کے لئے چند اہم اقدامات ناگزیر ہیں۔ حکومت ریفائنریز کے لئے بین الاقوامی ایگزم بینکوں سے طویل المدتی اور کم شرح سود پر فنڈز کے حصول کو یقینی بنائے تاکہ نجی شعبے کی فنڈنگ کے مسائل حل ہو سکیں۔ نجکاری کے عمل کو مکمل طور پر غیر جانبدار، شفاف اور مسابقتی بنایا جائے تاکہ قومی سرمائے کا بہترین استعمال اور خریداروں کا اعتماد بحال ہو سکے۔ ٹیلی کام سیکٹر میں فائیو جی کی توسیع کے لئے طے شدہ اہداف کی کڑی نگرانی کی جائے تاکہ کمپنیاں اپنے وعدوں کی پاسداری کریں۔ پاور سیکٹر کے گردشی قرضوں کے مستقل حل کے لئے گرڈ کے نظام میں بگاڑ کو دور کیا جائے تاکہ صنعتوں کو سستی اور بلاتعطل بجلی مل سکے۔ اس کے علاوہ، سیاسی و انتظامی تبدیلیوں سے بالاتر ہو کر ان تمام اصلاحاتی پالیسیوں کے تسلسل کو یقینی بنایا جائے تاکہ ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل نہ ہو۔ مجموعی طور پر، یہ تمام اقدامات درست سمت میں اٹھائے گئے قدم ہیں۔ اگر حکومت ان منصوبوں کو ان کی روح کے مطابق نافذ کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے، تو اس کے مثبت اثرات پاکستان کی توانائی کی سپلائی چین کو بین الاقوامی جھٹکوں سے محفوظ رکھیں گے، مواصلاتی نظام تیز تر ہو گا اور معیشت ایک پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن ہو جائے گی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ محض کاغذی دعوؤں سے آگے بڑھ کر زمینی حقائق کو بدلا جائے تاکہ عوام کو ان اصلاحات کے ثمرات عملی طور پر مل سکیں۔









