پشاور (نیوز ڈیسک) — پشاور کے علاقے بدھائی چمکنی میں 10 سالہ بچی کے ساتھ مبینہ زیادتی کے الزام میں گرفتار تین نوجوانوں (حمزہ، ابراہیم اور اسماعیل) کے لواحقین اور علاقہ مشران نے حاجی ذوالفقار کی قیادت میں پشاور پریس کلب میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیپیٹل سٹی پولیس آفیسر ڈاکٹر میاں سعید سے مطالبہ کیا ہے کہ اس کیس کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کر کے حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں۔
پریس کانفرنس کے دوران گرفتار نوجوانوں کے والدین اور علاقہ مشران کا کہنا تھا کہ ان کے بچوں کو ایک سازش کے تحت بے گناہ پھنسایا گیا ہے کیونکہ ایسا کوئی واقعہ رونما ہی نہیں ہوا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مبینہ طور پر متاثرہ کہلانے والی 10 سالہ بچی شرمیلی کے والدین ماضی میں بھی اس قسم کے معاملات سے بری الذمہ نہیں ہیں، اور علاقہ مکینوں کے مطابق ان کے ہاں دو ماہ قبل پیدا ہونے والی بچیوں کو بھی لاکھوں روپے میں فروخت کیے جانے کے چرچے ہیں۔ مشران کا کہنا تھا کہ اس جھوٹے مقدمے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ جرگوں کے ذریعے نوجوانوں کے والدین سے 90 لاکھ روپے بھتہ بٹورا جائے اور ان کا رہائشی گھر بھی زبردستی فروخت کروا کر رقوم ہتھیا لیں۔
مشران کے سربراہ حاجی ذوالفقار اور دیگر والدین نے مطالبہ کیا کہ اس نا کردہ گناہ کے الزام نے ان کی نیندیں حرام کر دی ہیں اور سوشل میڈیا پر ان کی عزت کو اچھالا جا رہا ہے، لہٰذا اس معاملے میں قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے مبینہ متاثرہ بچی اور تینوں گرفتار نوجوانوں کا فوری اور باقاعدہ فرانزک ٹیسٹ کرایا جائے تاکہ حقیقت سامنے آ سکے۔ انہوں نے اعلیٰ حکام سے پرزور مطالبہ کیا کہ انہیں فوری انصاف فراہم کیا جائے اور جھوٹے الزامات لگا کر بلیک میل کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔









