وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے الزام عائد کیا ہے کہ سادہ لباس میں ملبوس افراد صوبائی بیوروکریسی، پولیس، ڈپٹی کمشنرز اور ڈی پی اوز کو ڈرا دھمکا رہے ہیں، جبکہ پی ٹی آئی کے کارکنوں، تنظیمی عہدیداروں اور منتخب نمائندوں کو بھی مبینہ طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ شکیل خان، ریاض خان، فضل خان اور دیگر سے متعلق واقعات پر صوبائی حکومت کو تشویش ہے۔ ان کے مطابق ایسے اقدامات ناقابل قبول ہیں اور منتخب نمائندوں و وزراء کو تحفظ ملنا چاہیے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ اگر مختلف فورمز پر شنوائی نہ ہو تو پرامن احتجاج آئینی و جمہوری حق ہے، اسی لیے 27 ستمبر کا لانگ مارچ واپس نہیں لیا جائے گا اور پرامن انداز میں احتجاج جاری رکھا جائے گا۔
سہیل آفریدی نے بیوروکریسی اور پولیس افسران کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر صوبائی حکومت کی جانب سے کوئی غیر قانونی ہدایت نہیں دی جا رہی تو کسی بھی غلط حکم پر عمل نہ کیا جائے۔
انہوں نے خیبرپختونخوا کو ملک کے دیگر حصوں سے الگ کیے جانے کی مبینہ کوششوں پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سب کا ہے اور خیبرپختونخوا بھی پاکستان کا حصہ ہے۔
وزیراعلیٰ نے عوام سے اپیل کی کہ خوفزدہ نہ ہوں اور اپنے حقوق کے لیے پرامن سیاسی جدوجہد جاری رکھیں۔









