امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ پٹرولیم لیوی کے خاتمے کیلئے جماعت اسلامی کی جدوجہد جاری ہے اور پٹرول کی قیمت کم نہ ہوئی تو معیشت پر مزید دباؤ پڑے گا۔ ان کے مطابق جماعت اسلامی نے حکومت کو لیوی کے خاتمے کیلئے تجاویز بھی دی ہیں، تاہم ان پر تاحال کوئی مؤثر جواب نہیں ملا۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پٹرولیم لیوی کے معاملے پر ان کی جماعت دو ماہ سے زائد عرصے سے آواز اٹھا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پٹرول مہنگا ہونے سے اشیائے ضروریہ سمیت دیگر اخراجات بھی بڑھ جاتے ہیں۔
حافظ نعیم نے دعویٰ کیا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ معاہدے میں پٹرولیم لیوی عائد کرنا لازمی طور پر طے کیا گیا تھا۔ انہوں نے حکومت کی معاشی پالیسیوں اور سرکاری اخراجات پر بھی سوالات اٹھائے۔
ان کا کہنا تھا کہ شرحِ سود میں 3 فیصد کمی سے حکومت کو ایسی مالی گنجائش حاصل ہوسکتی ہے جس سے لیوی کی آمدن کا متبادل پیدا کیا جا سکے، جبکہ حکومتی اخراجات میں کمی کی بھی ضرورت ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے سرکاری گاڑیوں اور طیاروں کی خریداری پر بھی تنقید کرتے ہوئے اخراجات کی تفصیلات سامنے لانے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی پٹرولیم لیوی کے مکمل خاتمے کے مطالبے پر قائم ہے اور اس معاملے پر اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھے گی۔









