وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ دھرنوں، احتجاج اور کاروباری سرگرمیوں کی بندش کی وجہ سے ملک کو یومیہ 120 ارب روپے کا بھاری نقصان اٹھانا پڑے گا، جبکہ ہڑتالوں سے برآمدات کا حجم بھی 50 فیصد تک کم ہو سکتا ہے اور ترقی کا سفر رکنے کا شدید خدشہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ حالات میں مارچ، ہڑتالوں اور دھرنوں کی باتیں بالکل سمجھ سے بالاتر ہیں کیونکہ معاشی استحکام انتہائی مشکل فیصلوں سے حاصل ہوا ہے اور اس سفر کو جاری رکھنا ہم سب کی مشترکہ ذمے داری ہے۔ وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ اب ہمارا فوکس امداد (ایڈ) کے بجائے تجارت (ٹریڈ) پر ہے، مسائل بیٹھ کر بات چیت سے حل کیے جائیں کیونکہ دھرنوں اور احتجاج کے نقصانات کا اصل بوجھ غریب عوام پر پڑتا ہے۔ انہوں نے اطمینان کا اظہار کیا کہ ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر بلند ترین سطح 21.4 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں، اخراجات میں کمی لائی جا رہی ہے، کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ہے اور معیشت استحکام سے ترقی کی سمت گامزن ہے، جس کے لیے انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر معاشی اعداد و شمار اور کاروباری خبروں کو مسلسل مانیٹر کیا جا رہا ہے۔
2









