نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ سے ملاقات کی، جس میں پاکستان اور برطانیہ کے دوطرفہ تعلقات کے مختلف پہلوؤں سمیت علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات میں دونوں ممالک کی وزارتِ خارجہ کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات بھی ہوئے۔ فریقین نے باضابطہ مذاکرات کیلئے ایک منظم طریقہ کار قائم کرنے پر اتفاق کیا، جس کے تحت مختلف شعبوں میں تعاون اور اہم معاملات پر ہونے والی پیش رفت کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جائے گا۔
دونوں جانب سے باہمی دلچسپی کے امور پر اعلیٰ سطحی روابط اور قریبی رابطہ کاری جاری رکھنے کے عزم کا بھی اظہار کیا گیا۔
ملاقات کے دوران مشرق وسطیٰ کی صورتحال سمیت علاقائی اور عالمی امور پر بھی گفتگو ہوئی۔ اسحاق ڈار نے برطانوی وزیر خارجہ کو مشرق وسطیٰ میں پاکستان کی سفارتی اور ثالثی کوششوں سے آگاہ کیا، جسے برطانوی وزیر خارجہ نے سراہا۔
اسحاق ڈار نے پاکستان اور بھارت کے درمیان سندھ طاس معاہدے سے متعلق پیش رفت پر بھی بات کی اور بھارت کی جانب سے بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری کی اہمیت پر زور دیا۔
نائب وزیراعظم نے افغان سرزمین سے پاکستان کو لاحق دہشتگردی کے خطرات پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ افغانستان سے سرگرم دہشتگرد گروہوں کی کارروائیاں پاکستان کے امن و سلامتی کیلئے باعث تشویش ہیں۔
بعد ازاں اسحاق ڈار نے برطانوی وزیر مملکت اسٹیفن ڈوٹی سے بھی ملاقات کی، جس میں سیاسی، اقتصادی اور ادارہ جاتی روابط مزید مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات میں تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے کے امکانات، موسمیاتی تعاون، ثقافتی روابط اور علاقائی امن و استحکام کے امور بھی زیر بحث آئے۔
اسحاق ڈار نے برطانیہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستانی کمیونٹی دونوں ممالک کے درمیان اہم پل کی حیثیت رکھتی ہے۔
دونوں جانب سے پاکستان اور برطانیہ کے درمیان دوطرفہ اور علاقائی امور پر قریبی رابطے جاری رکھنے، مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے خطے میں امن و استحکام کے فروغ پر بھی اتفاق کیا گیا۔









