پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل میں بڑی کاروائی کرتے ہوئے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحقِ سرکار ضبط کرنے کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے یہ حکم مرکزی ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر کی گئی پلی بارگین کی درخواست کی سماعت کے دوران دیا۔
نیب خیبر پختونخوا کے مطابق اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں سنگین کرپشن کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ دورانِ تفتیش انکشاف ہوا کہ فی الوقت جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں موجود ملزم دوراج خان نے کرپشن کا پیسہ چھپانے کی غرض سے بیشام کے ایک نجی بینک میں اپنے قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے تھے۔
کیس کی سماعت کے دوران ملزم کے رشتہ داروں—محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند—نے عدالت میں رضاکارانہ طور پر بیانات قلمبند کراتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ وہ ان اکاؤنٹس میں موجود رقم کے جرائم کے ذریعے حاصل ہونے سے بے خبر تھے۔ انہوں نے رقم پر کسی بھی قسم کا دعویٰ نہ کرتے ہوئے اسے سرکاری تحویل میں دینے پر مکمل رضامندی ظاہر کی۔
عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان (پی ایم سیکریٹریٹ برانچ، اسلام آباد) کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالتی فیصلے کی رو سے یہ تمام رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔









