39

آبنائے ہرمز میں جنوبی کوریائی جہاز دھماکے سے آگ کی لپیٹ میں

مشرقِ وسطیٰ کے اہم بحری راستے آبنائے ہرمز میں صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے، جہاں جنوبی کوریا سے وابستہ ایک تجارتی جہاز میں دھماکے کے بعد آگ بھڑک اٹھی۔

 

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق HMM کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ جہاز کے انجن روم میں اچانک آگ لگی۔ واقعے کے وقت جہاز پر 24 افراد سوار تھے، جن میں 6 جنوبی کوریائی شہری اور 18 غیر ملکی عملہ شامل تھا۔

جنوبی کوریا کی وزارتِ خارجہ نے بھی واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ عملے کی حفاظت اور واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق آگ ممکنہ طور پر کسی حملے کا نتیجہ ہو سکتی ہے، تاہم حتمی طور پر کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔

یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب خطے میں کشیدگی پہلے ہی عروج پر ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایران نے اسی روز امریکی بحریہ کے ایک ڈسٹرائر کو میزائل حملوں کا نشانہ بنایا، جبکہ متحدہ عرب امارات نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے آئل ٹینکر پر ڈرون حملہ کیا گیا۔

اماراتی وزارت خارجہ کے مطابق ایرانی پاسداران کی جانب سے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانا کھلی بحری قزاقی ہے، جس سے نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت کو بھی شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی تیل ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے، جہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی توانائی کی قیمتوں اور سپلائی چین پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔