38

سفارتی منصوبہ پاکستان کے راستے امریکا تک پہنچ گیا: ایرانی سفیر

اسلام آباد میں تعینات ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا ہے کہ ایران نے ایک نیا سفارتی اور مذاکراتی منصوبہ پاکستان کے ذریعے امریکا تک پہنچا دیا ہے، تاہم اس عمل میں پیشرفت کا انحصار امریکی رویے پر ہوگا۔

ایرانی خبر رساں ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ایران اپنے مؤقف اور مطالبات پر مکمل طور پر واضح ہے اور اگر امریکا واقعی مذاکرات میں سنجیدہ ہے تو اسے اپنے طرزِ عمل میں تبدیلی لانا ہوگی۔

انہوں نے واضح کیا کہ ایران اپنی قومی سلامتی اور دفاعی پالیسی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

ایرانی سفیر کے مطابق جنگ کے خاتمے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے یہ نیا سفارتی منصوبہ پاکستان کے ذریعے امریکا تک پہنچایا گیا ہے، جس میں پاکستان ایک اہم ثالثی کردار ادا کر رہا ہے۔

انہوں نے پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس کردار میں کسی قسم کی تبدیلی کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ عالمی برادری ایران کے مؤقف کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے، جبکہ امریکا کے رویے کو غیر مستحکم قرار دیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق ایران سفارتکاری کے راستے پر قائم ہے، تاہم مذاکرات کی کامیابی کا انحصار امریکا کے رویے پر ہے۔

پاک-ایران تعلقات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور تجارتی روابط میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ میرجاوہ، تفتان اور گبد ریمدان بارڈر تجارت کے اہم راستے ہیں۔