42

افغان سرزمین دہشتگردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے، پاکستان کا شنگھائی تعاون تنظیم میں مؤقف

 وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان اور اس کے شہریوں پر حملوں کے لیے استعمال ہو رہی ہے، جس پر پاکستان کو شدید تشویش ہے، خصوصاً کالعدم تنظیموں ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کی سرگرمیوں کے تناظر میں۔

کرغزستان کے شہر بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیمکے وزرائے دفاع کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ افغانستان میں موجود دہشتگرد عناصر کے خلاف قابلِ اعتماد، قابلِ تصدیق اور مؤثر کارروائی ناگزیر ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے الزام تراشی اور نفرت انگیز سیاست سے گریز ضروری ہے، جبکہ اعتماد سازی، شفافیت اور باہمی تعاون کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان کے خلاف منفی پروپیگنڈا سیاسی مقاصد اور بدنیتی پر مبنی ہے، جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیاں اور کامیابیاں دنیا کے سامنے ہیں، تاہم ان کا اعتراف اکثر نظرانداز کیا جاتا ہے۔

خواجہ آصف کے مطابق پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف محض بیانات نہیں بلکہ عملی اقدامات کیے ہیں اور بے مثال قربانیاں دی ہیں، جس کے مثبت نتائج بھی حاصل ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ زمینی حقائق اس بات کے ثبوت ہیں کہ علاقائی امن و سلامتی کے لیے پاکستان کا کردار اہم اور ناقابلِ فراموش ہے۔