180

امریکا سے کوئی بات چیت نہیں ہو رہی، ٹرمپ کے مذاکراتی بیان کو ایران نے مسترد کر دیا

تہران: ایران نے امریکی صدر Donald Trump کے مذاکراتی بیانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا مقصد صرف توانائی کی قیمتوں کو کم کرنا اور اپنے فوجی منصوبوں پر عملدرآمد کے لیے وقت حاصل کرنا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق تہران اور واشنگٹن کے درمیان کسی قسم کی بات چیت نہیں ہو رہی۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ علاقائی ممالک کی جانب سے کشیدگی کم کرنے کی تجاویز آئی ہیں، مگر یہ سب واشنگٹن کے پاس بھیجی گئی ہیں، اور ایران وہ فریق نہیں جس نے جنگ شروع کی۔

ایک سینئر ایرانی سکیورٹی عہدیدار نے بھی کہا کہ امریکی صدر کے بیانات نفسیاتی جنگ کا حصہ ہیں اور ایران کے جوابی حملوں کی دھمکی نے امریکا کو حملے ملتوی کرنے پر مجبور کیا۔

امریکی صدر Donald Trump نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مثبت اور نتیجہ خیز بات چیت ہوئی ہے اور مشرق وسطیٰ میں جنگ کے حتمی حل کے لیے تفصیلی بات چیت پورے ہفتے جاری رہے گی۔ ساتھ ہی امریکی محکمہ جنگ کو ہدایت دی گئی کہ ایرانی پاور پلانٹس اور انرجی تنصیبات پر پانچ دن کے لیے ہر قسم کے فوجی حملے روکے جائیں۔

اس اعلان کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔ برینٹ کروڈ کی قیمت 109 ڈالر فی بیرل سے گر کر 94 ڈالر ہوئی، جبکہ امریکی خام تیل ڈبلیو ٹی آئی 10 فیصد کی کمی کے بعد 88.80 ڈالر فی بیرل پر آ گئی۔

ماہرین کے مطابق یہ اقدامات عالمی مارکیٹ میں عدم تحفظ کے خدشات کو کم کرنے کے لیے ہیں، مگر خطے کی کشیدگی ابھی برقرار ہے۔