امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کے خلاف نئی سخت پابندیوں کا اعلان کر دیا ہے، جو متوقع جوہری معاہدے کے مذاکرات سے قبل ایران کے مالی ذرائع کو محدود کرنے کی کوشش ہے۔
نئی پابندیوں میں 30 سے زائد افراد، ادارے اور بحری جہاز شامل ہیں، جو ایران کی مبینہ غیر قانونی تیل فروخت اور ہتھیار سازی میں معاونت کر رہے تھے۔ خاص طور پر وہ بحری جہاز نشانہ بنائے گئے ہیں جو ایران کے مبینہ "شیڈو فلیٹ" کا حصہ ہیں اور تیل و پیٹرولیم مصنوعات کو بیرونی مارکیٹ تک پہنچاتے ہیں۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ ایران مالیاتی نظام کو غیر قانونی تیل کی فروخت، آمدنی چھپانے، جوہری اور روایتی ہتھیاروں کے پروگرام کے لیے پرزہ جات حاصل کرنے اور دہشت گرد گروہوں کی مدد کے لیے استعمال کرتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ ایران پر "زیادہ سے زیادہ دباؤ" جاری رکھے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی بارہا دھمکی دی ہے کہ اگر ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے معاہدہ نہ کیا تو ممکنہ فوجی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ صدر ٹرمپ نے حالیہ "اسٹیٹ آف دی یونین" خطاب میں ایران پر "خطرناک جوہری عزائم" رکھنے کا الزام بھی لگایا۔
دوسری جانب ایران نے امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس کا میزائل پروگرام بالکل قانونی ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی امریکا کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے مثبت توقعات کا اظہار کیا ہے، تاہم تعلقات میں کشیدگی برقرار ہے۔
یہ اقدام عالمی سطح پر ایران اور امریکا کے تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا کر سکتا ہے اور جوہری معاہدے پر مذاکرات کو متاثر کرنے کا خدشہ ہے۔









