عالمی ادارہ صحت (WHO) نے خبردار کیا ہے کہ روزمرہ غذا میں نمک کا زیادہ استعمال انسانی صحت کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق نمک بنیادی طور پر سوڈیم اور کلورائیڈ پر مشتمل ہوتا ہے اور اگرچہ جسم کو معمولی مقدار میں اس کی ضرورت ہوتی ہے، تاہم حد سے زیادہ استعمال نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بالغ فرد کو روزانہ زیادہ سے زیادہ 5 گرام، یعنی تقریباً ایک چائے کے چمچ کے برابر نمک استعمال کرنا چاہیے۔ قدرتی غذاؤں میں بھی سوڈیم کی کچھ مقدار موجود ہوتی ہے، اس لیے اضافی نمک کا بے جا استعمال مختلف طبی مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔
مختصر مدت میں زیادہ نمک کھانے سے پیٹ پھولنا، شدید پیاس لگنا، ہاتھ پاؤں یا چہرے پر سوجن اور بلڈ پریشر میں اضافہ جیسے مسائل سامنے آ سکتے ہیں۔ نمک جسم میں پانی کو روک کر رکھتا ہے جس سے اضافی سیال جمع ہو جاتا ہے اور وزن میں عارضی اضافہ بھی دیکھنے میں آ سکتا ہے۔ اسی طرح نیند میں خلل، کمزوری اور نظامِ ہاضمہ کی خرابی جیسی شکایات بھی رپورٹ کی گئی ہیں۔
طویل مدت تک نمک کا زیادہ استعمال دل کے امراض، گردوں کی بیماری، گردوں میں پتھری، ہڈیوں کی کمزوری اور فالج جیسے سنگین خطرات بڑھا سکتا ہے۔ طبی ماہرین شہریوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ اپنی غذا میں نمک کی مقدار کم رکھیں اور پراسیسڈ فوڈز کے استعمال میں احتیاط کریں۔
نوٹ: صحت سے متعلق کسی بھی مسئلے کی صورت میں اپنے معالج سے رجوع کرنا ضروری ہے۔









