131

ملک میں 84 ہزار افراد ایچ آئی وی کے زیر علاج ہیں: وفاقی وزیر صحت

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کو بتایا کہ ملک میں نیشنل ایڈز پروگرام کے تحت ہر مریض پر سالانہ تقریباً 300 تا 500 امریکی ڈالر خرچ کیے جاتے ہیں اور اس وقت 84 ہزار افراد ایچ آئی وی کے زیر علاج ہیں۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ سندھ اور پنجاب سے تقریباً 3 لاکھ 50 ہزار کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جو کل کیسز کا 75 فیصد بنتے ہیں۔ وزیر صحت نے وضاحت کی کہ ٹیسٹنگ سینٹرز کی تعداد 24 سے بڑھا کر 127 کرنے سے اسکریننگ میں اضافہ ہوا، جس سے نئے کیسز کی نشان دہی بھی ہوئی۔

کمیٹی نے رپورٹ میں موجود خامیوں اور ناقص ڈیٹا پر تشویش ظاہر کی، خاص طور پر بلوچستان اور سرگودھا کے کیسز میں۔ وزیر صحت نے کہا کہ ملک بھر میں اسکریننگ اور آگاہی کے اقدامات جاری ہیں اور فنڈنگ و نگرانی کے نظام کی تفصیلات آئندہ اجلاس میں پیش کی جائیں گی۔

اجلاس میں نرسنگ اینڈ مڈوائفری کونسل کے حوالے سے بھی خدشات سامنے آئے، جن میں کچھ ارکان کے جعلی ڈگریوں کے مسائل زیر غور آئے، اور کمیٹی نے فوری چھان بین کی ہدایت دی۔

وزیر صحت نے مزید کہا کہ وزارت صحت کے بجٹ میں کمی کے باوجود پروگرام کے اہم اقدامات جاری ہیں اور نیشنل ایڈز پروگرام کو مؤثر اور شفاف انداز میں آگے بڑھایا جائے گا۔