30

نیو اسٹارٹ معاہدہ ختم، امریکہ اور روس میں نئی جوہری اسلحہ دوڑ کے خدشات بڑھ گئے

امریکہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے روس اور امریکہ کے درمیان آخری جوہری اسلحہ کنٹرول معاہدے نیو اسٹارٹ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاہدہ ناقص تھا کیونکہ اس میں چین شامل نہیں تھا۔

امریکی انڈر سیکریٹری آف اسٹیٹ برائے آرمز کنٹرول اینڈ انٹرنیشنل سیکیورٹی تھامس جی ڈی نینو نے کہا کہ نیو اسٹارٹ معاہدہ اب اپنی اہمیت کھو چکا ہے کیونکہ صرف دو طرفہ معاہدہ ایک ایٹمی طاقت کے جوہری ہتھیاروں میں غیر معمولی اضافے کو روکنے کے لیے ناکافی ہے۔ انہوں نے چین کے جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے پر شفافیت، کنٹرول اور کوئی حد نہ ہونے کی نشاندہی کی۔

دوسری جانب روسی سفیر برائے تخفیفِ اسلحہ نے کہا کہ جوہری ہتھیاروں کے کنٹرول یا کمی کے مذاکرات میں روس شامل ہونے کے لیے تیار ہے اور اس عمل میں برطانیہ اور فرانس کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔

نیو اسٹارٹ معاہدہ 5 فروری کو ختم ہو گیا، جب امریکی صدر نے روسی صدر ولادیمیر پوٹن کی جانب سے وارہیڈز کی حد ایک سال کے لیے بڑھانے کی تجویز کو رد کر دیا۔

اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک اپنے اسٹریٹجک جوہری وارہیڈز کی تعداد 1,550 تک محدود کرنے کے پابند تھے اور ایک دوسرے کے ذخائر کا معائنہ کر سکتے تھے، تاہم کووڈ-19 وبا کے دوران یہ معائنہ معطل ہو گیا تھا اور اب تک بحال نہیں ہو سکا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ روس اور امریکہ دنیا کے مجموعی جوہری وارہیڈز کا 80 فیصد سے زائد کنٹرول کرتے ہیں اور نیو اسٹارٹ کے خاتمے کے بعد نئی جوہری اسلحہ دوڑ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔