88

روسی تیل کی خریداری پر بھارت کی پالیسی برقرار، روس کا مؤقف

روس نے واضح کیا ہے کہ اسے بھارت کی جانب سے روسی تیل کی خریداری روکنے سے متعلق تاحال کوئی باضابطہ اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ کریملن کا یہ مؤقف ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کے ساتھ ایک نئے تجارتی معاہدے کا اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے یوکرین جنگ کے تناظر میں روس سے تیل نہ خریدنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ اس معاملے پر نئی دہلی کی جانب سے کوئی سرکاری بیان یا اطلاع موصول نہیں ہوئی، اور روس فی الحال قیاس آرائیوں پر تبصرہ نہیں کر سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ توانائی کے شعبے میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون اپنی جگہ برقرار ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ بھارت کے ساتھ ہونے والے تجارتی معاہدے کے تحت بھارتی مصنوعات پر عائد ٹیرف کم کر کے 18 فیصد کر دیے گئے ہیں، جبکہ اس سے قبل بعض مصنوعات پر 25 فیصد تک جوابی محصولات لاگو تھے۔ ٹرمپ کے مطابق روس سے تیل خریدنے پر بھارت پر اضافی 25 فیصد محصولات بھی عائد کیے گئے تھے، تاہم اب نئی دہلی کی جانب سے روسی تیل کی خریداری روکنے کی یقین دہانی کے بعد یہ فیصلہ ممکن ہوا۔

فروری 2022 میں روس کے یوکرین پر مکمل حملے کے بعد مغربی ممالک کی جانب سے عائد پابندیوں کے باعث روسی تیل رعایتی نرخوں پر عالمی منڈی میں دستیاب ہوا، جس کے نتیجے میں بھارت نے بڑے پیمانے پر روسی تیل کی درآمدات میں اضافہ کیا۔ یہی آمدن روسی معیشت اور فوج کے لیے ایک اہم ذریعہ سمجھی جاتی ہے، جسے یوکرین اور اس کے مغربی اتحادی محدود کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

دوسری جانب بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے امریکی صدر کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو اور ٹیرف میں نرمی پر شکریہ ادا کیا، تاہم روس سے تیل کی خریداری روکنے سے متعلق امریکی دعوے کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ یہ خاموشی سفارتی حلقوں میں سوالات کو جنم دے رہی ہے۔

واضح رہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے 2025 کے اواخر میں بھارت کے دورے کے دوران بھارت کو تیل کی بلا تعطل فراہمی کا وعدہ کیا تھا، جس سے دونوں ممالک کے توانائی تعلقات کی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔