116

نیویارک کے ریسٹورنٹس میں اوزیمپک صارفین کے لیے ’’ٹینی وینی منی میلز‘‘ کا نیا رجحان

نیویارک کے کچھ ریسٹورنٹس نے وزن کم کرنے والی دوا اوزیمپک استعمال کرنے والے صارفین کے لیے کھانے کے حصے خاص طور پر چھوٹے کر دیے ہیں۔ نئے ’’ٹینی وینی منی میلز‘‘ صرف 8 ڈالر میں پیش کیے جا رہے ہیں، تاکہ کم بھوک رکھنے والے افراد بھی سماجی طور پر باہر کھانے کا حصہ بن سکیں۔

لینا ایکسماکر، جو 20 سال سے نیویارک میں رہائش پذیر ہیں، نے بتایا کہ اوزیمپک استعمال کرنے کے بعد ان کی بھوک تقریباً ختم ہو گئی، مگر وہ سماجی ڈنر چھوڑنا نہیں چاہتی تھیں۔ اسی لیے مین ہیٹن کے ریسٹورنٹ Le Petit Village نے برنچ مینو میں فرنچ ٹوسٹ اور اسموکڈ سالمَن ٹارٹین جیسے آئٹمز کے آدھے سائز متعارف کروائے۔

ریسٹورنٹ انتظامیہ کے مطابق GLP-1 ادویات استعمال کرنے والے افراد باہر کھانے آنا چاہتے ہیں، لیکن زیادہ کھا نہیں پاتے، اس لیے مینو کو نئے انداز میں ترتیب دیا گیا ہے۔ غیر منافع بخش ادارے KFF کے مطابق امریکا میں تقریباً ہر آٹھ میں سے ایک بالغ فرد GLP-1 ادویات استعمال کر رہا ہے، جن میں اوزیمپک اور ویگووی شامل ہیں۔

اسی رجحان کو دیکھتے ہوئے Clinton Hall نے بھی ’’ٹینی وینی منی میل‘‘ متعارف کروایا، جس میں ایک چھوٹا برگر، تھوڑی سی فرائز اور 3 اونس بیئر یا وائن شامل ہے۔ ریسٹورنٹ مالک ارسطو ہاتزی جیورگیو نے کہا کہ منی میل سے کھانے کا ضیاع کم ہو رہا ہے اور لوگ کم خرچ میں باہر کھانے سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔

نیویارک یونیورسٹی کی پروفیسر اور ماہر غذائیت ماریون نیسلے نے کہا کہ GLP-1 ادویات خوراک کے ساتھ انسانی تعلق بدل رہی ہیں، تاہم طویل مدت میں سماجی اور جسمانی اثرات ابھی واضح نہیں ہیں۔

ریسٹورنٹ Le Petit Village نے عندیہ دیا ہے کہ وہ جلد ڈنر کے لیے بھی ہاف پورشن متعارف کروائیں گے، جبکہ Clinton Hall چکن پر مشتمل نیا منی میل تیار کر رہا ہے۔ اوزیمپک کے بڑھتے استعمال نے یوں نہ صرف وزن کم کرنے کے طریقے بدلے ہیں بلکہ ریسٹورنٹ کلچر کو بھی ایک نئے، متوازن اور سادہ دور میں داخل کر دیا ہے۔