امریکی صدر ٹرمپ اور امریکی کانگریس کے بعد اب فرانس کے شمال مغربی نیول ائیر بیس کے کمانڈر کیپٹن یوک لونے نے بھی تصدیق کی ہے کہ 6 اور 7 مئی کی رات پاکستان نے بھارتی رافیل طیارے مار گرائے تھے۔
کیپٹن لونے نے بتایا کہ طیاروں میں کوئی تکنیکی خرابی نہیں تھی، بلکہ مسئلہ بھارتی پائلٹس کے استعمال میں تھا۔ انہوں نے پاکستانی فضائیہ کی صلاحیتوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے مؤثر حکمت عملی اور مضبوط دفاع کے ذریعے بھارتی فضائیہ کے 140 سے زائد لڑاکا طیاروں کو قابو میں رکھا۔
کیپٹن لونے نے انڈو پیسفک کانفرنس میں بتایا کہ پاکستانی فضائیہ نے اس پیچیدہ صورتحال کو بھارت کے مقابلے میں بہتر انداز میں ہینڈل کیا، جبکہ رافیل طیارے اپنی تکنیکی برتری کے باوجود ناکام رہے کیونکہ اسے صحیح طریقے سے استعمال نہیں کیا گیا۔
انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ بھارتی حکومت اب نیول رافیل کی خریداری میں دلچسپی رکھتی ہے، جو ایئرکرافٹ کیریئر سے لانچ ہو سکتے ہیں اور جوہری ہتھیار بھی لے جا سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان یہ فضائی جھڑپ مستقبل کی جنگی حکمت عملی کے لیے اہم سبق فراہم کرتی ہے، کیونکہ پائلٹس، لڑاکا طیاروں اور ایئر ٹو ایئر میزائلوں کی کارکردگی حقیقی جنگی ماحول میں پرکھی گئی۔









