بنگلا دیش کی خصوصی انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل نے سابق وزیرِاعظم شیخ حسینہ واجد، ان کی حکومت کے سابق وزیرِ داخلہ اسد الزمان خان کمال اور سابق پولیس چیف چوہدری عبداللہ المامون کے خلاف انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے کا فیصلہ 17 نومبر کو سنانے کا اعلان کیا۔
عدالت نے حسینہ اور کمال کو مفرور قرار دیا اور ان کی غیر حاضری میں سماعت کی گئی، جبکہ المامون نے عدالت میں پیش ہو کر جرم کا اعتراف کیا اور سابق ساتھیوں کے کردار کی تفصیلات بیان کیں۔
المامون نے اقرار کیا کہ انہوں نے گزشتہ سال ہونے والی طلبہ تحریک “جولائی بغاوت” کو دبانے میں مرکزی کردار ادا کیا اور حسینہ واجد و ان کے وزیرِ داخلہ کے احکامات پر عمل کیا۔
چیف پراسیکیوٹر تاج الاسلام نے کہا کہ عدالت انصاف کے مطابق فیصلہ دے گی اور یہ فیصلہ انسانیت کے خلاف جرائم کے خاتمے کی علامت ثابت ہوگا۔
فیصلے کی تاریخ پر سیاسی کشیدگی کے خدشات ہیں، کیونکہ عوامی لیگ مقدمات کو سیاسی انتقام قرار دے چکی ہے۔









