چین کے شمال مغرب میں واقع سنکیانگ کا خطہ آٹھ ممالک کی سرحدوں سے ملتا ہے اور شاہراہ ریشم کے ساتھ واقع ہونے کے باعث صدیوں سے مشرق اور مغرب کے مابین تجارت کا مرکز رہا ہے۔
یہ خطہ ناہموار پہاڑوں، شاندار گھاٹیوں، سرسبز گھاس کے میدانوں اور قدیم جھیلوں کے لیے مشہور ہے۔ سنگاپور کے سن شینگیاؤ، جنہوں نے مئی 2024 میں سنکیانگ کا دورہ کیا، نے کہا کہ "گویا سوئٹزرلینڈ، نیوزی لینڈ اور منگولیا سب ایک جگہ پر ہیں۔"
چین کے دیگر حصوں کے برعکس، سنکیانگ میں ہان چینی اکثریت نہیں بلکہ زیادہ تر ترک زبان بولنے والے مسلمان ہیں، جن میں اویغور سب سے بڑا نسلی گروہ ہیں۔ سنہ 1990 اور 2000 کی دہائی میں یہاں کشیدگی میں اضافہ ہوا جب ہان چینیوں پر اویغور اقلیت کے ساتھ کم تر سلوک کے الزامات نے علیحدگی پسند جذبات کو فروغ دیا۔ بیجنگ نے اس کے جواب میں سخت کریک ڈاؤن کیا۔
شی جن پنگ کے دور میں چینی کمیونسٹ پارٹی نے کنٹرول کو مزید سخت کیا، جس کے نتیجے میں اویغوروں کو ہان چینی ثقافت میں ضم کرنے کے الزامات لگے۔ ستمبر 2024 میں اپنے دورے کے دوران شی جن پنگ نے خطے کی ترقی کو سراہا اور چینی ثقافت اور معاشرے کی عکاسی کے لیے عقائد کی تبدیلی پر زور دیا۔
سنکیانگ میں سیاحت کی سرمایہ کاری بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ہلٹن اور میریٹ سمیت تقریبا 200 بین الاقوامی ہوٹل یا تو پہلے ہی کام کر رہے ہیں یا کھولنے کے منصوبے میں ہیں۔ چینی حکام کے مطابق، سنہ 2024 میں سنکیانگ نے تقریبا 30 کروڑ سیاحوں کا خیرمقدم کیا، جو 2018 کے مقابلے میں دوگنا سے زیادہ ہے۔ اس عرصے کے دوران سیاحت سے آمدنی تقریبا 40 فیصد بڑھ کر 51 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، اور رواں سال کی پہلی ششماہی میں 13 کروڑ سیاحوں نے اس خطے کا دورہ کیا، جس سے 143 ارب یوآن کی آمدنی حاصل ہوئی۔
اگرچہ غیر ملکی سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، تاہم اکثریت ملکی سیاحوں کی ہے۔ بیجنگ کا ہدف ہے کہ ایک سال میں 40 کروڑ سے زیادہ سیاح سنکیانگ کا دورہ کریں اور 2030 تک سیاحت کی آمدنی ایک کھرب یوآن تک پہنچ جائے۔









