141

61 ہزار سے زائد فلسطینی شہید، غزہ میں انسانی بحران سنگین تر

غزہ: اسرائیلی محاصرے اور مسلسل حملوں کے باعث غزہ کا صحت کا نظام مکمل طور پر مفلوج ہو چکا ہے۔ اسپتالوں میں خون کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے جبکہ بھوک اور پانی کی کمی کے سبب بیشتر شہری خون عطیہ کرنے کے قابل بھی نہیں رہے۔

الشفا اسپتال کے حکام کے مطابق، عطیہ دینے والے افراد کمزوری اور غذائی قلت کے باعث موقع پر ہی بے ہوش ہو جاتے ہیں، جس سے مریضوں کی جانیں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔ ڈبلیو ایچ او نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر مریضوں کے طبی انخلا کا بندوبست کیا جائے، کیونکہ 14,800 سے زائد افراد فوری علاج کے منتظر ہیں۔

ادھر بھوک سے اموات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ محصور علاقے میں اب تک 193 فلسطینی شہری فاقہ کشی کے باعث جاں بحق ہو چکے ہیں، جب کہ بدھ کے روز خوراک لینے کی کوشش میں اسرائیلی فائرنگ سے مزید 18 افراد جاں بحق ہوئے۔ فلسطینی حکام کے مطابق، مئی سے اب تک 1,560 سے زائد امداد کے متلاشی افراد فائرنگ کا نشانہ بن چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کی نئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ صرف 8.6 فیصد زرعی زمین قابل رسائی ہے، جبکہ 98 فیصد خوراک کی مقامی پیداوار تباہ ہو چکی ہے۔ ایندھن کی بندش کے سبب متعدد اسپتال بند ہو چکے ہیں، اور طبی عملہ جان بچانے والے آپریشن روکنے پر مجبور ہے۔

ادھر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی جانب سے غزہ میں ممکنہ دوبارہ فوجی کارروائی اور قبضے کے اشارے نے خطرات مزید بڑھا دیے ہیں۔ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی نئی بڑی کارروائی کی صورت میں شہری ہلاکتوں میں سنگین اضافہ ہو سکتا ہے۔

غزہ میں اب تک 61,158 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں 18,430 بچے شامل ہیں۔ جنگ بندی کی کوششیں تعطل کا شکار ہیں اور فلسطینیوں کو اب بھی بمباری، بھوک اور بدحال صحت کے نظام کا سامنا ہے۔