امریکی حکومت نے غیر ملکی طلبہ پر ویزا پابندی ختم کر کے دوبارہ پراسیسنگ شروع کر دی ہے، لیکن نئی پالیسی کے تحت اب تمام درخواست گزاروں کو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی تفصیلات فراہم کرنا لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق، قونصلر افسران ہر طالبعلم کی سوشل میڈیا سرگرمیوں کا باریک بینی سے جائزہ لیں گے۔ اگر کسی پوسٹ میں امریکہ یا اس کے اداروں، آئین یا معاشرتی اصولوں کی مخالفت پائی گئی تو درخواست کو مسترد کیا جا سکتا ہے۔
ٹرمپ دور میں معطل کردہ اسٹوڈنٹ ویزا پراسیسنگ کا عمل بحال کر دیا گیا ہے، تاہم نئی ہدایات میں واضح کیا گیا ہے کہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو پبلک رکھنا ہوگا، انکار کی صورت میں ویزا ملنا ممکن نہیں ہوگا۔
یاد رہے کہ گزشتہ ماہ امریکی حکام نے انٹرویوز کی عارضی بندش کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا اسکریننگ کو بھی سخت کرنے کا فیصلہ کیا تھا، جو اب باضابطہ طور پر نافذ کر دیا گیا ہے۔









