برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے اپنے معروف اینکر گیری لِنیکر کو ملازمت سے ہٹا دیا، جس کی وجہ ان کی سوشل میڈیا پوسٹ بنی، جس میں انہوں نے غزہ کے حق میں اظہارِ رائے کیا تھا۔
بی بی سی کی غیر جانبداری کی پالیسی اور تنازعہ
بی بی سی کے ڈائریکٹر جنرل ٹم ڈیوی نے وضاحت کی کہ گیری لِنیکر نے ادارے کے غیر جانبداری کے اصولوں کی خلاف ورزی کی، حالانکہ یہ پوسٹ انہوں نے ذاتی حیثیت میں کی تھی۔
عوامی ردِعمل اور اظہارِ رائے کی آزادی پر بحث
گیری لِنیکر کی برطرفی پر صحافیوں، مداحوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے شدید ردِعمل دیا۔ سوشل میڈیا پر #IStandWithGary اور #FreeSpeechMatters جیسے ہیش ٹیگز کے ذریعے ان کی حمایت کی جا رہی ہے۔
بی بی سی پر تنقید اور مغربی میڈیا میں فلسطین سے متعلق پالیسی
ماہرین کا کہنا ہے کہ مغربی میڈیا میں فلسطین کے حق میں آواز بلند کرنے والوں کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس سے قبل بھی امریکا اور یورپ میں کئی صحافی، اساتذہ اور فنکار اسی قسم کی پابندیوں اور نتائج کا سامنا کر چکے ہیں۔
گیری لِنیکر کا موقف اور مستقبل کی حکمت عملی
گیری لِنیکر نے اپنی پوسٹ پر وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد کسی کی دل آزاری نہیں تھا، تاہم بی بی سی نے ان کی معذرت کے باوجود انہیں ملازمت سے ہٹا دیا۔
یہ معاملہ اظہارِ رائے کی آزادی اور میڈیا کی غیر جانبداری پر ایک نئی بحث کو جنم دے رہا ہے، اور دیکھنا ہوگا کہ آیا بی بی سی کے اس فیصلے پر مزید ردِعمل سامنے آتا ہے یا نہیں۔









