147

دائمی تناؤ جوان افراد میں فالج کے خطرے کو بڑھا سکتا ہے، تحقیق میں انکشاف

دنیا بھر میں فالج ایک مہلک بیماری کے طور پر سامنے آ رہا ہے، خاص طور پر نوجوانوں میں اس کے کیسز میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ طبی ماہرین نے اس رجحان پر تحقیق کرتے ہوئے ایک نیا پہلو دریافت کیا ہے، جس کے مطابق مسلسل ذہنی دباؤ (دائمی تناؤ) فالج کے امکانات کو بڑھا سکتا ہے۔

اس تحقیق میں 426 فالج کے مریضوں اور 426 صحت مند افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا، جن کی عمریں 18 سے 49 سال کے درمیان تھیں۔ تمام شرکاء سے ذہنی دباؤ، روزمرہ کی زندگی میں پیش آنے والے مسائل، کام کے بوجھ اور ذاتی زندگی کے حوالے سے تفصیلی سوالات کیے گئے۔

نتائج کے مطابق:

  • فالج کے مریضوں میں 46 فیصد افراد نے شدید ذہنی دباؤ کی شکایت کی، جبکہ صحت مند گروپ میں یہ شرح 33 فیصد رہی۔
  • خواتین میں فالج کا خطرہ مردوں کے مقابلے میں زیادہ تھا، خاص طور پر اگر وہ مسلسل دباؤ میں رہیں۔
  • شدید تناؤ خواتین میں فالج کے امکانات کو 84 فیصد تک بڑھا سکتا ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ تناؤ نہ صرف فالج بلکہ ہائی بلڈ پریشر، دل کی بیماریوں اور دیگر مہلک امراض کی بھی ایک بڑی وجہ بن سکتا ہے۔ تحقیق میں شامل ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے ورزش، متوازن غذا اور صحت مند معمولات کو اپنانا انتہائی ضروری ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق اس حوالے سے ایک سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ اس سے فالج کی روک تھام کے لیے نئی حکمت عملی ترتیب دینے میں مدد ملے گی۔