55

وکلاء کی موجیں ٗ کل اورآج بھی عدالتی بائیکاٹ

پشاور۔پشاور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی کال پر ڈیرہ اسماعیل خان میں وکلا پر پولیس کی جانب سے ایف ائی ار کے اندراج کے خلاف بدھ کے روز پشاورہائی کورٹ اورصوبہ بھرکی ماتحت عدالتوں کاوکلاء نے بائیکاٹ کیا جس کے باعث کوئی بھی وکیل عدالتوں میں پیش نہ ہوا عدالتیں سنسان رہیں اوربیشترمقدمات کی سماعت بغیرکارروائی کے ملتوی کردی گئی جس پرسائل رل کے رہ گئے جبکہ وکلاء دن بھرگپوں اورسیاسی بحث مباحثوں میں مصروف رہے ۔

دوسری جانب جیلوں میں قیدی رہائی کے پروانوں کی راہ تکتے رہ گئے جبکہ قومی جوڈیشل پالیسی کے خلاف آج جمعرات کے روز بھی وکلاء صوبہ بھرمیں وکلاء عدالتی بائیکاٹ کریں گے وکلاء کی پے درپے ہڑتالوں کے باعث سائل اورقیدی سراپااحتجاج بن گئے ہیں سائلیں کاکہناہے کہ وکلاء فیسیں لے کرہڑتال کے لئے بہانے ڈھونڈتے ہیں جس کاچیف جسٹس آف پاکستان کونوٹس لیناچاہئیے کیونکہ ایک جانب عدلیہ میں زیرالتواء مقدمات کی شرح میں روزبروزاضافہ ہوتاجارہاہے اورقومی جوڈیشل پالیسی بھی پینڈنسی کو کم کرنے کے لئے بنائی گئی لیکن وکلاء اب ہڑتال پر ہڑتال کرکے جوڈیشل پالیسی کو بھی ناکام بناناچاہتے ہیں سائلین کاکہناتھا کہ وکلاء کاماڈل کورٹ کے بائیکاٹ کابھی کوئی جواز نہیں بنتا ۔