7

مولانا فضل الرحمان کا سیاسی مکالمے پر زور: ملک کو انارکی سے نکالنے کا واحد راستہ بات چیت ہے

اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ملک کو موجودہ سیاسی اور معاشی بحرانوں سے نکالنے کے لیے سیاسی مکالمے کا راستہ اختیار کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ ہمیشہ سے مذاکرات کے حامی رہے ہیں اور آئندہ بھی بات چیت کے ذریعے مسائل کے حل پر یقین رکھیں گے۔

سینئر صحافی مجیب الرحمن شامی کی رہائش گاہ پر آمد کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے تجویز دی کہ نئے صوبوں کی تشکیل سمیت ہر اہم قومی موضوع پر ملک گیر سطح پر سیاسی مکالمہ ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وفاقی، صوبائی اور مقامی حکومتوں کے درمیان توازن قائم کرتے ہوئے اختیارات کی منصفانہ تقسیم کی جائے تو ریاست کو درپیش اکثر مشکلات کا خاتمہ ممکن ہے۔

ملکی نظام اور سکیورٹی کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے جے یو آئی سربراہ کا کہنا تھا کہ موجودہ نظام عملی طور پر بیٹھ چکا ہے۔ پنجاب میں امن و امان کی بہتری کو سراہتے ہوئے انہوں نے دو صوبوں میں بگڑتی ہوئی سکیورٹی کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے پارلیمنٹ کے اندر دو مرتبہ ان کیمرہ اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا تھا تاکہ ارکان کو ملکی حقائق سے آگاہ کیا جا سکے، لیکن اس پر توجہ نہیں دی گئی۔

سرمایہ کاری اور معیشت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کار عدم اعتماد کا شکار ہیں، جبکہ وسطی ایشیا کے ساتھ روایتی تجارت بھی متاثر ہوئی ہے۔ معدنی ذخائر کے معاملے پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بعض حلقوں کو این ایف سی ایوارڈ اور صوبائی خودمختاری ہضم نہیں ہو رہی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ دورہ کرنے والے امریکی عہدیداروں نے بھی پاکستانی معدنی ذخائر میں دلچسپی ظاہر کی تھی، جس کے جواب میں انہوں نے واضح کیا کہ وسائل سے متعلق تمام فیصلے وفاق، صوبوں اور عوام کی مشاورت سے ہونے چاہئیں

تحریک انصاف کے ساتھ ماضی کے پارلیمانی اشتراک کا ذکر کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے بتایا کہ چھাবیسویں آئینی ترمیم کے دوران حکومتی مسودے سے پینتیس شقیں ختم کروانا پی ٹی آئی کے ساتھ مشاورت اور پارلیمنٹ کے اندر مشترکہ حکمت عملی کا نتیجہ تھا۔ تاہم انہوں نے تنقید کی کہ پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا نے بعض معاملات میں تلخی بڑھائی ہے، اور سیاسی کارکنوں کو گالی کی بجائے دلائل کی ثقافت اپنانی چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ میڈیا پر پابندیاں عائد کرنے کے بجائے قومی معاملات پر آزادانہ اور مدلل گفتگو کو فروغ دیا جانا چاہیے۔