9

اسلام آباد کو صوبائی طرز کی خود مختاری دینے کا فیصلہ، 27 رکنی اسمبلی بنانے کی تجویز

اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت کے انتظامی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں اعلیٰ سطح کی خصوصی کمیٹی نے اسلام آباد کو صوبائی طرز کی انتظامی اور مالی خودمختاری دینے کا مجوزہ ڈرافٹ وزیراعظم کو پیش کر دیا ہے۔

حکومتی ذرائع کے مطابق تیار کردہ اس نئے گورننس ماڈل کے تحت اسلام آباد میں ستائیس رکنی کیپیٹل ٹیریٹری اسمبلی قائم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس مجوزہ ایوان میں اکیس ارکان براہ راست عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوں گے جبکہ خواتین کے لیے پانچ اور اقلیتوں کے لیے ایک مخصوص نشست رکھی جائے گی۔ اسمبلی کے انتخابات الیکشن کمیشن کے تحت کرائے جائیں گے اور اراکین پر آئین کے آرٹیکل باسٹھ اور تریسٹھ کا اطلاق ہوگا۔

ڈرافٹ کے مطابق دارالحکومت کے امور چلانے کے لیے ایک منتخب چیف ایگزیکٹو (میئر یا وزیر اعلیٰ) ہوگا جو منتخب اسمبلی کے سامنے جواب دہ ہوگا۔ اس کے علاوہ چیف سیکرٹری اور چار سیکرٹریز کی تعیناتی سمیت ستائیس انتظامی محکمے قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ صحت، تعلیم، ماحولیات اور شہری سہولیات جیسے محکمے نئی مقامی حکومت کے دائرہ اختیار میں دیے جائیں گے جبکہ امن و امان اور ماسٹر پلاننگ کے معاملات وفاقی حکومت کے پاس ہی رہیں گے۔ سی ڈی اے اور دیگر بلدیاتی اداروں کے تمام اختیارات بھی نئی آئی سی ٹی حکومت کو منتقل کیے جانے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس خصوصی کمیٹی میں احسن اقبال، محسن نقوی، رانا ثناء اللہ اور مصدق ملک سمیت اعلیٰ وفاقی وزراء اور سیکرٹریز شامل تھے۔