3

بھارت سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر ختم نہیں کرسکتا، اسحاق ڈار

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ بھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ ختم نہیں کرسکتا، جبکہ معاہدے سے متعلق بھارت کے اقدامات کو جنگی اقدام سمجھا جائے گا۔

برطانیہ کے دورے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ دورہ انتہائی کامیاب رہا۔ منیلا میں برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ سے بھی ملاقات ہوئی جس میں انسداد دہشت گردی، تجارت اور دیگر باہمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ پاک برطانیہ تجارت مزید بڑھانے پر اتفاق ہوا۔

نائب وزیراعظم کے مطابق برطانوی وزیر خارجہ اور دیگر حکام نے ایران اور امریکا کے درمیان امن کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہا اور مشکل وقت میں پاکستان کی کوششوں کی تعریف کی۔ ان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی بھی تعریف کی گئی۔

اسحاق ڈار نے بتایا کہ برطانوی قومی سلامتی کے مشیر سے بھی ملاقات ہوئی، جبکہ افغانستان اور ایران کی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک پرامن اور مستحکم افغانستان کا خواہاں ہے اور افغان حکومت کو یقینی بنانا چاہیے کہ اس کی سرزمین پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کے راستے ازبکستان سے پاکستان تک ریلوے لائن کے معاہدے پر بھی پیش رفت ہوئی ہے۔ بارڈر بند ہونے سے پاکستانی کاشتکاروں کو نقصان پہنچا، تاہم پاکستان نے دو مرتبہ ایک ہزار کنٹینرز کو انسانی بنیادوں پر افغانستان جانے کی اجازت دی، لیکن افغان حکومت نے رفاہی سامان سے لدے کنٹینرز کو آگے جانے کی اجازت نہیں دی۔

نائب وزیراعظم نے عالمی بحری تنظیم کے سیکریٹری جنرل سے ملاقات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ایم ٹی ہارنر 25 پر موجود 10 پاکستانی بحری کارکنوں کی رہائی کے معاملے پر بات ہوئی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایم ٹی ہارنر 25 پولاؤ میں رجسٹرڈ جہاز ہے۔

معیشت کے حوالے سے اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کو مستحکم کر دیا گیا ہے اور ملک کے ڈیفالٹ کا خدشہ مکمل طور پر ختم ہوچکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف کو دنیا بھر سے متعدد دعوت نامے موصول ہوتے ہیں اور ان کا انتخاب مشکل ہوجاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کی قیادت میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو تاریخ میں سنہری باب کے طور پر لکھا جائے گا۔