اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو انسانی جان کی حرمت، عدل و انصاف اور حق کی حفاظت کی تعلیم دیتا ہے۔ اگرچہ اسلام نے ناحق قتل کو سختی سے منع کیا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کی رضا، دین کی سربلندی، مظلوموں کے دفاع اور وطن کی حفاظت کے لیے جان قربان کرنے والوں کو "شہادت" کے عظیم مرتبے سے نوازا ہے۔
قرآن و سنت میں شہداء کے بلند مقام، ان کی برزخی زندگی اور اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کے انعامات کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ آئیے شہادت کے مفہوم، اس کے معیار اور اس کے عظیم فضائل کا مختصر جائزہ لیتے ہیں۔
شریعتِ اسلامیہ کی اصطلاح میں شہادت سے مراد کسی مسلمان کا اللہ تعالیٰ کی رضا، اس کے دین کی سربلندی یا وطنِ عزیز کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر دینا ہے۔
-
علامہ ابن عابدین شامیؒ: "شرعی اعتبار سے شہید وہ ہے جسے مشرکین نے قتل کیا ہو۔" (رد المحتار: 2/252)
-
علامہ ابن حجر عسقلانیؒ: "اصل شہید وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں قتل ہو جائے۔" (فتح الباری: 6/42)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"جو شخص اس لیے قتال کرے کہ اللہ کا دین سربلند ہو، وہی اللہ کی راہ میں شہید ہے۔" (صحیح مسلم: 1904)
امام نوویؒ اس حدیث کی تشریح میں لکھتے ہیں کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔
اسلام میں شہادت ایسا عظیم اور رفیع الشان منصب ہے جو اللہ تعالیٰ کے مقرب اور محبوب بندوں کو عطا ہوتا ہے۔ قرآن پاک نے شہید کی عظمت اور درجات کو انتہائی دلنشین انداز میں بیان کیا ہے:
عام انسانوں کے نزدیک موت ہر چیز کا خاتمہ ہے، لیکن قرآن مجید اس فکر کی نفی کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
’’جو لوگ اللہ تعالیٰ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مردہ نہ کہو، بلکہ وہ تو زندہ ہیں لیکن تمہیں (ان کی زندگی کا) شعور نہیں‘‘ (البقرہ: 154)
ایک اور مقام پر فرمایا:
’’جو لوگ اللہ تعالیٰ کی راہ میں قتل کیے گئے ہیں انہیں ہرگز مردہ نہ سمجھو، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں، انہیں رزق دیا جاتا ہے۔‘‘ (آلِ عمران: 169)
شہادت کے بعد روح کو فوراً نعمتوں بھری زندگی میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔ شہید نہ صرف خود ان نعمتوں سے لطف اندوز ہوتا ہے، بلکہ اپنے پیچھے رہ جانے والے مومنین کے لیے بھی خوش ہوتا ہے:
’’وہ خوش ہیں اس پر جو اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے فضل سے عطا فرمایا...‘‘ (آلِ عمران: 170)
قرآن مجید نے ان چار ممتاز گروہوں کا ذکر کیا ہے جن پر اللہ کا خاص انعام ہے:
’’اور جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے، تو وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا، یعنی انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین...‘‘ (النساء: 69)
اللہ تعالیٰ نے شہید کی قربانی کو ایک معتبر تجارت قرار دیا ہے:
’’بیشک اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان سے ان کی جانیں اور ان کے مال، ان کے لیے جنت کے عوض خرید لیے ہیں...‘‘ (التوبہ: 111)
احادیثِ مبارکہ میں شہید کے بے شمار خصوصیات اور انعامات کا ذکر ملتا ہے:









