113

ایڈز کے بڑھتے کیسز، ملک میں 84 ہزار رجسٹرڈ مریض رپورٹ، وفاقی وزیر صحت

وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے ایچ آئی وی/ایڈز کے کیسز اور فنڈز کے استعمال سے متعلق اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے متعدد انکشافات اور پالیسی اقدامات کا اعلان کیا ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ این جی اوز کی جانب سے فنڈز کے استعمال کی تفصیلات فراہم نہیں کی جا رہیں، جس پر وزارت صحت کو تشویش ہے اور شفافیت نہ ہونے کے باعث معلومات تک رسائی میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

وزیر صحت کے مطابق ملک میں ایچ آئی وی کے رجسٹرڈ کیسز کی تعداد تقریباً 84 ہزار ہے، جن میں سے 61 ہزار افراد زیر علاج ہیں جبکہ 23 ہزار مریض ایسے ہیں جن کا کوئی سراغ نہیں مل سکا کیونکہ وہ علاج نہیں کروا رہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ یہ کہنا کہ ایڈز لاعلاج ہے درست نہیں، کیونکہ اب یہ مرض قابل علاج ہے اور سرکاری مراکز پر اس کی ادویات مفت فراہم کی جا رہی ہیں۔

اعداد و شمار کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں آبادی کے لحاظ سے تقریباً 3 لاکھ 69 ہزار کیسز ہونے چاہئیں تھے، تاہم موجودہ شرح 0.1 فیصد ہے جو عالمی اوسط 0.5 فیصد سے کم ہے۔

تفصیلات کے مطابق تونسہ میں رپورٹ ہونے والے کیسز 2024 کے ہیں جبکہ جنوری سے اپریل 2026 کے دوران کوئی نیا کیس رپورٹ نہیں ہوا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اسلام آباد میں 618 کیسز رجسٹرڈ ہیں، جن میں سے 208 مقامی جبکہ باقی کیسز مختلف علاقوں سے ریفر ہو کر آئے ہیں، جن میں راولپنڈی، خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر شامل ہیں۔

وفاقی وزیر صحت نے ایک اہم پالیسی اقدام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ حکومت 10 سی سی سرنج کے دوبارہ استعمال پر مکمل پابندی عائد کرنے جا رہی ہے تاکہ انفیکشن کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔