175

صاف پانی بھی صحت کے لیے خطرہ بن سکتا ہے، تحقیق

ایک نئی بین الاقوامی تحقیق میں پینے کے صاف پانی سے متعلق عام تصور کو چیلنج کرتے ہوئے اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔

تحقیق کے مطابق پینے کے پانی میں موجود نمکیات انسانی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں اور ہائی بلڈ پریشر کے خطرے میں اضافہ کا باعث بن سکتے ہیں۔

مطالعے میں 27 مختلف آبادیوں کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا، جن میں امریکہ، بنگلہ دیش، ویت نام، کینیا، آسٹریلیا، اسرائیل اور یورپی ممالک شامل تھے۔

نتائج سے ظاہر ہوا کہ زیادہ نمکین پانی استعمال کرنے والے افراد میں سسٹولک بلڈ پریشر اوسطاً 3.2 ملی میٹر مرکری اور ڈائسٹولک بلڈ پریشر تقریباً 2.8 ملی میٹر مرکری زیادہ پایا گیا، جبکہ ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ تقریباً 26 فیصد تک بڑھا ہوا دیکھا گیا۔

ماہرین کے مطابق اگرچہ یہ فرق انفرادی سطح پر معمولی محسوس ہو سکتا ہے، تاہم بڑی آبادیوں میں اس کے صحت پر نمایاں اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

تحقیق میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ پینے کے پانی کے معیار، خصوصاً اس میں موجود نمکیات کی سطح پر مسلسل نگرانی ضروری ہے تاکہ بلند فشارِ خون سمیت دیگر امراض کے خطرات کو کم کیا جا سکے۔

ماہرین صحت نے عوام کو متوازن پانی کے استعمال اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔