73

آواز سے کینسر کی شناخت؟ نئی تحقیق نے سائنسدانوں کو بھی حیران کر دیا

واشنگٹن میں نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ مصنوعی ذہانت انسانی آواز میں چھپے باریک اشاروں کو شناخت کر کے گلے کے کینسر سمیت دیگر بیماریوں کی ابتدائی تشخیص میں مدد دے سکتی ہے۔

غیر ملکی ماہرین نے کہا کہ گلے کا کینسر، جسے وائس باکس کینسر بھی کہا جاتا ہے، دنیا بھر میں سنگین مسئلہ ہے، اور اکثر مریض دیر سے تشخیص کی وجہ سے پیچیدگیوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ موجودہ طریقے جیسے اینڈوسکوپی اور بایوپسی نہ صرف تکلیف دہ ہیں بلکہ ہر جگہ دستیاب نہیں۔

امریکی محققین نے “بریج ٹو اے آئی وائس” منصوبے کے تحت ہزاروں آوازوں کا تجزیہ کیا، جس میں پچ، آواز کی شدت اور شور کے تناسب جیسے عوامل کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔

تحقیق کے نتائج کے مطابق مردوں میں آواز کے مخصوص پیٹرنز، خصوصاً ہارمونک ٹو نوائز ریشو اور پچ میں تبدیلیاں، گلے کے کینسر یا ابتدائی رسولیوں کی نشاندہی میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں، تاہم خواتین کے لیے مزید تحقیق ضروری ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں یہ ٹیکنالوجی ایسے نظام کی بنیاد بن سکتی ہے جو صرف آواز سن کر بیماریوں کی بروقت تشخیص ممکن بنائے، جس سے علاج کے بہتر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔