گھروں میں استعمال ہونے والی مختلف اشیا جیسے ٹی وی اور ائیرکنڈیشنر کے ریموٹ، دیواری گھڑیاں اور کھلونے بیٹریوں پر انحصار کرتے ہیں، تاہم اکثر لوگ کسی آلے کے کام نہ کرنے پر فوری طور پر سیل کو خراب سمجھ کر تبدیل کر دیتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایسا ہر بار ضروری نہیں ہوتا، کیونکہ بظاہر ناکارہ نظر آنے والی بیٹری میں بھی کچھ حد تک توانائی باقی ہو سکتی ہے۔
بیٹری کی حالت جانچنے کے لیے اگرچہ بیٹری ٹیسٹر اور وولٹ میٹر جیسے آلات استعمال کیے جاتے ہیں، لیکن عام صارفین کے لیے بھی آسان گھریلو طریقے موجود ہیں۔ 9 والٹ بیٹری کے لیے ایک طریقہ یہ ہے کہ اس کے ٹرمینل کو ہلکا سا زبان سے چھو کر دیکھا جائے، اگر ہلکا جھٹکا محسوس ہو تو بیٹری میں ابھی توانائی موجود ہوتی ہے۔
اسی طرح ڈبل اے، ٹرپل اے اور دیگر بیٹریوں کو ہلکی اونچائی سے زمین پر گرانے سے بھی ان کی حالت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ نئی بیٹریاں عام طور پر نہیں اچھلتیں، جبکہ کمزور یا ختم ہونے والی بیٹریاں زمین سے ٹکرا کر اچھلتی ہیں، جس کی وجہ اندرونی کیمیائی تبدیلیاں ہوتی ہیں۔








