لاہور کی سیشن کورٹ نے معروف گلوکار علی ظفر کی جانب سے دائر ہتکِ عزت کیس میں بڑا فیصلہ سناتے ہوئے گلوکارہ میشا شفیع کو 50 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دے دیا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں میشا شفیع کو سوشل میڈیا پر ہراسانی سے متعلق مزید بیانات دینے سے بھی روک دیا ہے۔
یہ کیس 2018 میں اس وقت شروع ہوا تھا جب میشا شفیع نے علی ظفر پر جنسی ہراسانی کے الزامات عائد کیے تھے، جس کے بعد علی ظفر نے 100 کروڑ روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا۔
کیس کی سماعت کے دوران مجموعی طور پر 20 گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے جبکہ 284 پیشیاں ہوئیں۔ اس طویل قانونی عمل میں 9 ججز کے تبادلے بھی دیکھنے میں آئے، جو اس کیس کی پیچیدگی اور طوالت کو ظاہر کرتا ہے۔
عدالتی فیصلے کے بعد سوشل میڈیا پر اس معاملے نے ایک بار پھر نئی بحث چھیڑ دی ہے، جہاں صارفین مختلف آراء کا اظہار کر رہے ہیں۔









