طبی ماہرین نے جدید مرحلے کے پروسٹیٹ کینسر کے لیے تیار کی گئی نئی دوا کے ابتدائی آزمائشی نتائج کو ’’غیر معمولی‘‘ قرار دیتے ہوئے اسے علاج کے میدان میں اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔
یہ نیا علاج دراصل ایک جدید امیونو تھراپی ہے، جسے اس انداز میں تیار کیا گیا ہے کہ یہ جسم کے اپنے مدافعتی نظام کو کینسر کے خلاف مؤثر طریقے سے متحرک کرے۔ ابتدائی نتائج کے مطابق اس تھراپی نے نہ صرف موجودہ رسولیوں کو سکڑنے میں مدد دی بلکہ ان کی مزید بڑھوتری کو روکنے کی صلاحیت بھی ظاہر کی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ماضی میں روایتی امیونو تھراپیز پروسٹیٹ کینسر میں زیادہ کامیاب ثابت نہیں ہو سکیں۔ کئی مریضوں میں رسولیوں کے سائز میں نمایاں کمی نہیں آ سکی اور بعض کیسز میں شدید ضمنی اثرات بھی سامنے آئے۔ تاہم نئی دوا VIR-5500 ایک منفرد ’’خفیہ نظام‘‘ پر کام کرتی ہے، جو اسے صرف رسولی تک پہنچنے کے بعد فعال ہونے دیتا ہے، یوں صحت مند خلیات کو نقصان پہنچنے اور مضر اثرات کے خطرے کو نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
یہ نتائج امریکن سوسائٹی آف کلینیکل آنکولوجی (ASCO) کے جینیٹویورینری کینسرز سمپوزیم میں پیش کیے گئے۔ محققین کے مطابق اس دوا کو 58 ایسے مرد مریضوں پر آزمایا گیا جن میں جدید مرحلے کے پروسٹیٹ کینسر پر دیگر علاجوں کا اثر ختم ہو چکا تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آئندہ مراحل کی آزمائشوں میں بھی یہی نتائج برقرار رہے تو یہ دوا جدید مرحلے کے پروسٹیٹ کینسر کے مریضوں کے لیے امید کی نئی کرن ثابت ہو سکتی ہے۔









