پاکستانی ڈرامہ ناظرین اس وقت اس بحث میں مصروف ہیں کہ اسکرین پر دکھایا جانے والا ’’صحت مند محبت‘‘ کا تصور حقیقت میں کیسا ہونا چاہیے۔ ایسے میں ڈرامہ سیریل ’’میری زندگی ہے تو‘‘ اپنی کہانی اور کرداروں کی وجہ سے شدید تنقید کی زد میں ہے۔
سیریل میں مرکزی کردار بلال عباس اور ہانیہ عامر ادا کر رہے ہیں، اور کہانی ایک بااصول میڈیکل اسٹوڈنٹ آئرا کے گرد گھومتی ہے، جس کی زندگی میں ایک امیر اور بااثر نوجوان کامیار داخل ہوتا ہے۔ کامیار محبت کو اختیار اور ضد کے امتزاج کے طور پر دیکھتا ہے، جہاں آئرا کا انکار اسے چیلنج محسوس ہوتا ہے۔
ناظرین کا کہنا ہے کہ ڈرامہ وہی پرانا فارمولا دہرا رہا ہے: ایک طاقتور اور مالدار مرد خاتون کا مسلسل تعاقب کرتا ہے، اس کے انکار کو نظرانداز کرتا ہے، مگر کہانی اسے رومانوی رنگ میں پیش کرتی ہے۔ وقت کے ساتھ آئرا کی مزاحمت کمزور پڑتی دکھائی دیتی ہے اور وہ آہستہ آہستہ کامیار کی طرف مائل ہو جاتی ہے، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ضد اور مسلسل دباؤ ہی محبت کا ثبوت ہیں۔
سوشل میڈیا پر ناقدین کا مؤقف ہے کہ مسئلہ صرف ایک کردار کے رویے تک محدود نہیں بلکہ ڈرامے کی تحریر اور آئرا کے کردار کی محدود نشوونما بھی سوالیہ نشان ہے۔ بعض مناظر میں جارحانہ مزاج اور نشے کی عادت رکھنے والے کردار کو جواز فراہم کرنے کی کوششیں بھی دکھائی گئی ہیں، جبکہ مذہبی حوالوں کو اخلاقی برتری ثابت کرنے کے لیے استعمال کیا جانا بھی اعتراض کا باعث بنا ہے۔
ڈرامہ سیریل ’’میری زندگی ہے تو‘‘ نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا پاکستانی ڈرامے غیر صحت مند تعلقات کو محبت کا نام دے کر نئی نسل کے ذہنوں میں غلط تصورات کو تقویت دے رہے ہیں؟









