امریکی ہارٹ ایسوسی ایشن کی سائنسی کانفرنس میں پیش کی گئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ نیند کی دوا کے طور پر استعمال ہونے والے میلاٹونن کے طویل المعیاد استعمال سے دل کی بیماریوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
تحقیق کے اہم نتائج
ایک لاکھ تیس ہزار سے زائد بالغ افراد پر کیے گئے مطالعے میں یہ پایا گیا کہ ایک سال سے زائد میلاٹونن استعمال کرنے والوں میں دل کی بیماری کا خطرہ 89 فیصد زیادہ تھا۔
ان افراد کی موت کا امکان بھی دو گنا زیادہ پایا گیا۔
برطانیہ اور امریکا کے ہیلتھ ریکارڈز سے معلوم ہوا کہ دل کی بیماری کی وجہ سے اسپتال داخل ہونے کا امکان ساڑھے تین گنا زیادہ تھا۔
میلاٹونن کیا ہے؟
میلاٹونن انسانی دماغ میں قدرتی طور پر پیدا ہونے والا ہارمون ہے جو جسم کی اندرونی گھڑی (circadian rhythm) کو منظم کرتا ہے۔ یہ دوا رات کو سونے میں مدد دیتی ہے اور امریکا میں بالغ افراد کی جانب سے استعمال ہونے والے قدرتی سپلیمنٹس میں چوتھے نمبر پر ہے۔
ماہرین کی رائے
نیویارک کی میڈیکل ٹیم کی محقق ایکینیڈیلی چکوو نادی کا کہنا ہے کہ میلاٹونن کے سپلیمنٹس اتنے بے ضرر نہیں جتنے سمجھا جاتا ہے۔
کارلوس ایجیا نے کہا کہ یہ نتائج میلاٹونن کو محفوظ سمجھنے کے تصور کو چیلنج کرتے ہیں اور مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حاملہ خواتین، دودھ پلانے والی مائیں اور بچوں کے لیے خصوصی احتیاط ضروری ہے، جبکہ دیگر افراد کے لیے ایک سے دو ماہ تک استعمال محفوظ سمجھا جاتا ہے، مگر طویل مدت کے اثرات پر تحقیق کم ہے۔
احتیاطی تدابیر
آسٹریلیا میں بچوں میں میلاٹونن کے زیادہ استعمال کے واقعات نے بھی اس کی حفاظت پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، اگرچہ یہ ایک قدرتی ہارمون پر مبنی دوا ہے، لیکن اس کے خطرات سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔
واضح رہے کہ یہ تحقیق ابتدائی مراحل میں ہے اور تصدیق کے لیے مزید مطالعات کی ضرورت ہے۔









